آبنائے ہرمزسے گزرنےوالےجہازوں پرفیس کےنفاذ کا میکانزم تیار کررہے ہیں: ایرانی رکن پارلیمنٹ

امریکی آپریشن 'پروجیکٹ فریڈم' کے تحت چلنے والے جہازوں کے لیے راستہ بند رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی تجارت کے توازن کو تبدیل کرنے والے ایک غیر معمولی اقدام میں ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ تہران نے ایک مخصوص راستے کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کا طریقہ کار تیار کر لیا ہے جس کا جلد ہی انکشاف کیا جائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ اپنی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارت کی سکیورٹی کی ضمانتوں کے فریم ورک کے تحت ایران نے ایک مخصوص راستے کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے ایک پیشہ ورانہ طریقہ کار تیار کیا ہے جس کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طریقہ کار کو استعمال کرنے کی اجازت صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے فریقوں کو ہی دی جائے گی اور اس طریقہ کار کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات پر فیس بھی وصول کی جائے گی۔

ان کے بقول یہ راستہ 'پروجیکٹ فریڈم' (آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی گزرگاہ کو منظم کرنے کا امریکی آپریشن) کے تحت کام کرنے والے جہازوں کے لیے بند رہے گا۔

واضح رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت نمایاں طور پر مضبوط کر لی ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب نے سمندری جہاز رانی پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے صرف محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔

اس دوران بحری جہازوں پر فائرنگ یا انہیں وارننگ دیے جانے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے بحری نقل و حرکت میں شدید کمی آئی ہے اور بحری جہازوں کی آمد و رفت اب بھی سخت پابندیوں کی زد میں ہے کیونکہ اس آبنائے کو کامیابی سے عبور کرنے والے جہازوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے اور یہ جہاز اکثر ایران یا اس کے اتحادیوں سے منسلک ہوتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں