قانونی پروٹوکول کے تحت مزید بحری جہازوں کو ہرمز عبور کرنے کی اجازت دے رہے: ایران

پاسداران انقلاب نے پہلے کہا تھا انہوں نے بدھ کی شام سے چینی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت دی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ ایران کی طرف سے وضع کردہ قانونی پروٹوکول کے تحت آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اس راستے کو عملی طور پر بند کر رکھا ہے۔ جنوبی ایران کے شہر بندر عباس سے ٹیلی ویژن کے رپورٹر نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی بحری افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے اس وقت مزید جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔

انہوں نے اسے اس بات کا اشارہ قرار دیا کہ مزید ممالک نے ان نئے قانونی پروٹوکولز کو تسلیم کر لیا ہے جو ایران اور پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے اس خطے اور آبنائے ہرمز میں وضع کیے ہیں۔ یہ پیش رفت پاسداران انقلاب کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے کہ اس کی بحری افواج نے بدھ کی شام سے چینی جہازوں کو اس سٹریٹجک آبنائے سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعرات کو بتایا کہ 30 سے زائد بحری جہاز گزرے ہیں۔ تاہم ٹی وی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ سب بحری جہاز چینی تھے۔

اس آبنائے سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی کل پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا تھا اور یہ کھادوں اور بحری جہاز رانی کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اب یہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم نکتہ ہے۔ تہران تنازع کے بعد کے مرحلے میں بھی آبنائے سے آمد و رفت کے کنٹرول پر اصرار کر رہا ہے۔

امریکہ اور دنیا کے کئی ممالک اس میں بحری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہرمز میں نقل و حرکت پر پابندی نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایک ایرانی اہلکار نے گزشتہ اپریل میں کہا تھا کہ تہران نے اس سٹریٹجک آبنائے میں عائد کردہ ٹرانزٹ فیس وصول کرنا شروع کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں