10 جون 2026 کو الصیدا میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد گاڑیوں میں آتش زدگی۔ (اے ایف پی)
اسرائیلی فوج نے کہا کہ تین ڈرونز نے اتوار کو الگ الگ واقعات میں شمالی اسرائیل پر حملہ کیا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ان کے بارے میں شبہ ہے کہ یہ لبنان سے حزب اللہ نے داغے۔
"اسرائیلی سرزمین میں اسرائیل-لبنان سرحد کے قریب مشکوک فضائی اہداف کی شناخت ہوئی ہے۔ کوئی زخمی نہیں ہوا،" فوج نے ایک ابتدائی بیان میں کہا۔
بعد ازاں ایک الگ بیان میں فوج نے کہا کہ ایک اور "دشمن طیارے" نے شمالی اسرائیلی علاقے میں دراندازی کی۔
وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے مشترکہ بیان کے مطابق حملوں کے تناظر میں اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے مضبوط مقام پر اہداف پر حملہ کیا جو الضاحیہ کے نام سے معروف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی علاقے میں فائرنگ کے جواب میں کیا گیا۔
انتہائی دائیں بازو کے دو اسرائیلی وزراء نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر جوابی حملوں کا مطالبہ کیا۔
"شمالی برادریوں پر گولی چلانا الضاحیہ کے نظریے کا امتحان ہے جس کا وزیرِ اعظم نے اعلان کیا ہے۔ میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اسے فیصلہ کن اور مضبوط طریقے سے نافذ کریں اور الضاحیہ میں عمارات منہدم کر دیں،" وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے ایکس پر کہا۔
"ہر ڈرون کے لیے - ایک میزائل؛ ہر خلاف ورزی کے لیے - فائر؛ ہر یو اے وی کے لیے - الضاحیہ کانپ جائے،" قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے ایکس پر لکھا۔
نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکام نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر حزب اللہ گروپ نے شمالی اسرائیلی کمیونٹیز کو نشانہ بنایا تو اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کرے گا اور ان کے بقول اس پوزیشن کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے۔
اس دوران فوج نے جنوبی لبنان کے 29 دیہات کے رہائشیوں کو وہاں حملوں سے قبل انخلاء کی سخت وارننگ جاری کر دی۔