اسرائیل کی 30 لبنانی قصبوں کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے تسلسل کے دوران اسرائیلی فوج نے درجنوں جنوبی قصبوں کے رہائشیوں کو نئی وارننگز جاری کر دی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دو الگ پوسٹس میں جنوبی لبنان کے تقریباً 30 قصبوں کے مکینوں سے علاقے خالی کرنے اور کم از کم ایک ہزار میٹر دور کھلے مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو اس کے خلاف طاقت کے ساتھ کارروائی کرنا پڑ رہی ہے۔

ادرعی کے مطابق حزب اللہ کے عناصر تنصیبات یا عسکری وسائل کے قریب موجود افراد اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

دوسری جانب العربیہ/الحدث کی نامہ نگار کے مطابق جنوبی قصبے عرب الجل سے شہریوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق علی الطاہر کی پہاڑیوں کے علاقے جو قلعہ شقیف کے مقابل واقع ہیں اور نبطیہ شہر پر نظر رکھتے ہیں،وہاں پر جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے۔



اس کے علاوہ اسرائیلی فضائی حملوں میں الشرقیہ قصبہ بھی نشانہ بنا، جبکہ الریحان، دیر قانون اور قضاء صور میں واقع بلدیہ شیحین کے اطراف بھی اسرائیلی گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فضائی حملوں کی وسیع لہر

جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بدستور جاری ہیں، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس دوران مذاکراتی عمل اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے وسیع پیمانے پر فضائی حملے اور توپ خانے کی گولہ باری کی، جس نے نبطیہ، صور، بنت جبیل، مرجعیون، صیدا اور جزین کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔



اس کے علاوہ اسرائیلی ڈرون طیاروں نے بھی جنوبی لبنان کے متعدد مقامات پر فضائی کارروائیاں کیں۔اسرائیلی فوج نے اپنی فضائی اور زمینی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے کئی قصبوں اور دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی نئی وارننگز بھی جاری کیں۔ ہفتے کی شام نبطیہ اور صور کے اضلاع میں مزید علاقوں پر فضائی حملے کیے گئے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں، فوجی گاڑیوں اور اجتماعات کے خلاف 22 فوجی کارروائیاں انجام دیں۔

ان حملوں میں راکٹوں، خودکش ڈرونز اور جنوبی محاذ کے مختلف علاقوں میں براہِ راست جھڑپوں کا استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق لبنان میں موجودہ جنگ کا آغاز 2 مارچ کو ہوا، جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی جانب راکٹ داغے۔ یہ کارروائی ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے 28 فروری کو تہران پر ہونے والے ابتدائی امریکی،اسرائیلی حملوں میں قتل کیے جانے کے ردعمل میں کی گئی تھی۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں، شدید بمباری اور زمینی کارروائیوں کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اب تک 3756 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے ایک وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں