اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے تین ڈرونز کو شمالی علاقے کی طرف بھیجے جانے اور انہیں مار گرانے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ اور انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان بتسلئیل سموتریچ نے سخت ردعمل دیا ہے۔
سموتریچ نے اسے اسٹریٹجک سطح پر ایک امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے پیش کی گئی ''ضاحیہ نظریہ'' (Dahiya Doctrine) کی عملی آزمائش ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ اس نظریے کو فوری طور پر نافذ کیا جائے اور آج ہی بیروت کے جنوبی مضافات میں موجود عمارتوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جائے۔
ان کے مطابق یہ دن خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہیں اور اسرائیل نے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو سیکیورٹی کی جو یقین دہانی کرائی ہے، اسے پورا کرنا ضروری ہے۔
הירי לעבר ישובי הצפון הוא מבחן למשוואת הדאחיה שראש הממשלה הכריז עליה.
— בצלאל סמוטריץ' (@bezalelsm) June 14, 2026
אני קורא לו לממש אותה בנחישות ובתקיפות ולהוריד עוד היום בניינים בדאחיה.
אנחנו בימים קריטיים של עיצוב המרחב לשנים רבות.
הבטחנו ביטחון לתושבי הצפון ואנחנו חייבים לקיים!
حزب اللہ کو کچل دو
اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے حزب اللہ کے حالیہ ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سخت بیان دیا ہے۔ انہوں نے ''ایکس'' پر لکھا کہ وہ اس معاملے کو آج شام ہونے والے کابینہ اجلاس میں اٹھائیں گے۔
بن گویر نے کہا کہ ہر ڈرون کے بدلے حزب اللہ کو لرز جانا چاہیے اور اگر اسرائیلی فوج کے کسی سپاہی کے سر کا ایک بال بھی متاثر ہو تو جواب میں حزب اللہ کے ہزار جنگجو مارے جانے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی نرمی یا رعایت کی گنجائش نہیں اور ''حزب اللہ کو مکمل طور پر کچل دینا چاہیے'' ۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی طرف تین ڈرون حملے کیے ہیں، جنہیں جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
אדרוש ואבהיר שוב את עמדתי היום בדיון עם ראש הממשלה:
— איתמר בן גביר (@itamarbengvir) June 14, 2026
על כל רחפן - טיל.
על כל הפרה - אש.
על כל כטב”ם - הדאחייה צריכה לרעוד.
על כל שערה מראשו של חייל צה”ל - אלף מחבלי חיזבאללה.
מול הטרור לא מכילים, מכריעים!
اسرائیلی فوج کے مطابق ان ڈرونز کو شمالی علاقوں کی جانب بھیجا گیا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔حملے کے بعد سرحدی علاقوں میں سائرن بجائے گئے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک ڈرون شلومی نامی سرحدی قصبے کے قریب گر گیا۔دوسری جانب حزب اللہ نے تاحال ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ پیش رفت ایک حساس وقت میں ہوئی ہے، جب ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ چند گھنٹوں میں ایک مجوزہ معاہدے پر دستخط کی توقع کی جا رہی ہے، جس میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی کی شقیں بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ لبنان سے شمالی علاقوں پر کسی بھی راکٹ حملے کا جواب بیروت پر کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز اور وزیراعظم نیتن یاہو بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ شمالی اسرائیل کی طرف کسی بھی حملے کے جواب میں بیروت کو نشانہ بنایا جائے گا۔