ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا یا پھر وہ ایسا کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔
قالیباف نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا تو موجودہ راستے پر چلنا ناممکن ہوگا۔
دوسری جانب خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی کمانڈر محمد جعفر اسدی نے سرکاری میڈیا کے حوالے سے کہا کہ بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیل کے جرائم کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
حزب اللہ کے کمانڈ ہیڈکوارٹر پر بمباری
اسرائیلی فوج نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے ایک کمانڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
تجاوز صهیونیستها به ضاحیه باردیگر نشان داد آمریکا یا ارادهای برای اجرای تعهدات خود ندارد یا توان آن را. با چراغ سبز نشان دادن به رژیم نمیتوانید امتیاز بگیرید. بازی پلیس بد و پلیس خوب قدیمی شده است.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 14, 2026
اگر اراده و توان اجرای تعهدات خود را ندارید، سخن گفتن از ادامه مسیر ممکن نیست.
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک مشترکہ بیان میں زور دیا کہ فوج نے اسرائیل کی جانب فائرنگ کے جواب میں مضافات میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی اسرائیل کو نشانہ بنانے کے کسی بھی اقدام کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
تین افراد ہلاک
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں بیروت کے جنوبی مضافات کے علاقے غبیری میں ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کے سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ مضافات میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سول ڈیفنس نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے اہلکاروں نے حملے کے بعد غبیری میں ریسکیو اور ملبہ ہٹانے کا آپریشن کیا اور ملبے سے 3 لاشیں نکالیں۔ بیان کے مطابق 6 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ادھر العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے بتایا کہ جنوبی بیروت میں ہونے والے حملے میں حزب اللہ کا کمانڈر علی الحاج ہلاک ہو گیا ہے۔
تین ڈرون طیارے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کی جانب سے آج الگ الگ کارروائیوں میں 3 ڈرون طیارے اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے جن میں سے دو شمالی اسرائیل میں گر کر تباہ ہو گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج پر کئی حملوں کا اعلان کیا لیکن اس نے ابھی تک شمالی اسرائیل پر کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے آج ایک معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہونا چاہیے۔
ایرانی فریق نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو پہلے سے کہیں زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
-
اسرائیلی حکام کا الجلیل میں دو ڈرون طیاروں کے گرانے کی تصدیق
اسرائیل کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ الجیل کے مغربی علاقے میں دو ڈرون طیاروں کو گرتے ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کی 30 لبنانی قصبوں کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت
جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے تسلسل کے دوران اسرائیلی فوج نے درجنوں جنوبی ...
مشرق وسطی -
سموتریچ اور بن گویر کا نیتن یاہو پر دباؤ''بیروت کے بدلے شمالی اسرائیل ''کا فارمولا دہرایا
اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے تین ڈرونز کو شمالی علاقے کی طرف بھیجے جانے اور ...
مشرق وسطی