ایرانی سپریم لیڈر کا امریکہ کو عالمی عدالت میں گھسیٹنے کا عزم، مذاکرات بھی جاری
ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ نے ایران میں "عدلیہ کے ہفتے" کے موقع پر ایک پیغام میں امریکہ اور اسرائیل کو 28 فروری کو اپنے ملک پر مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس جنگ میں ان کے والد اور سابق رہبر علی خامنئی سمیت درجنوں عسکری کمانڈر اور سیاسی رہنما ہلاک ہوئے تھے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ "مجرموں کا پیچھا کیا جانا چاہیے اور انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہیے"۔
اپنی تقرری کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہ آنے والے رہبر نے مزید کہا کہ "بعض امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کا ان جرائم کا اعتراف، بلکہ اس پر فخر کرنا، بلا شبہ ان کے ارتکاب کا اعتراف ہے"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے دونوں جنگوں کے متاثرین خاص طور پر سابق رہبر کے قتل کے ذمہ داروں کو مقامی اور بین الاقوامی عدالتوں میں سنجیدگی سے قانون کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایرانی حکام ماضی میں مغربی اور بین الاقوامی عدالتی نظام پر اسرائیل اور امریکہ کی طرفداری کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
مذاکرات کی اجازت
یہ سخت بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ یہ مجتبیٰ خامنہ ای ہی ہیں جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دی تھی۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ نے 18 جون کو جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس کے بعد ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں پاکستانی اور قطری ثالثوں کی موجودگی میں بات چیت کی تھی۔ دونوں فریقوں نے ایران سے پابندیاں ہٹانے، بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز اور جوہری فائل پر مذاکرات کے لیے تکنیکی ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والے باہمی حملوں کے بعد سے دونوں فریق ایک دوسرے پر مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔