آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے دو جہازوں کو نشانہ بنانے اور امریکی فوج کے جوابی حملوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال کے درمیان تہران نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ "آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ رابطہ کاری ناگزیر ہے۔"
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق ایرانی حکام نے وضاحت کی کہ "خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کے لیے سب سے محفوظ راستہ جزیرہ ہرمز کے جنوب میں ہے، اور خلیج سے باہر جانے والے جہازوں کے لیے جزیرہ لارک کے جنوب میں واقع راستہ موزوں ہے"۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی "علاقائی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گی"۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے حتمی تصفیے کے لیے جاری مذاکرات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
بغداد کے دورے کے دوران اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عراقچی نے خلیجی علاقے کی سکیورٹی کے لیے ایک "نیا لائحہ عمل" وضع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ایران کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے علاوہ کسی بھی نئے یا الگ تھلگ انتظامات کو اپنانے کی کوشش صرف حالات کو پیچیدہ بنائے گی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر کا سبب بنے گی اور کشیدگی میں اضافہ کرے گی، جیسا کہ ہم نے گزشتہ دو راتوں کے دوران دیکھا ہے"۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن عمان کے ساحل کے ساتھ جنوبی راستے کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ تہران چاہتا ہے کہ جہاز اس کے زیرِ کنٹرول شمالی راستے سے گزریں۔ خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق، ایران بالآخر اس آبنائے کے استعمال پر فیس عائد کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے طیاروں نے اتوار کی صبح دس ایرانی مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جو آبنائے کے قریب سے گزرنے والی ایک آئل ٹینکر پر ایرانی ڈرون حملے کا جواب تھا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین پر حملے کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی بہانے امریکی جارحیت کا "بھرپور جواب" دیا جائے گا۔
ایران اور امریکہ ایک دوسرے پر 18 جون کو طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت قائم جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس مفاہمت کے تحت فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے حتمی تصفیے کے لیے 60 روزہ مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔
-
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کااختیار صرف ایران کے پاس ہے:عراقچی کا دوٹوک مؤقف
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ باہمی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ...
مشرق وسطی -
علاقائی کشیدگی میں کمی، پاکستان کے کاروباری گروپ کا ایران گیس پائپ لائن کی بحالی پر زور
تجارت، سرحدی انفراسٹرکچر اور نجی شعبے میں تعاون بہتر کرنے کا مطالبہ
پاكستان