علاقائی کشیدگی میں کمی، پاکستان کے کاروباری گروپ کا ایران گیس پائپ لائن کی بحالی پر زور

تجارت، سرحدی انفراسٹرکچر اور نجی شعبے میں تعاون بہتر کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک پاکستانی کاروباری ایڈووکیسی گروپ نے ہفتے کے روز حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دیرینہ تاخیر کا شکار ایران-پاکستان گیس پائپ لائن بحال کرے اور کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں حالیہ کمی نے تہران کے ساتھ اقتصادی تعاون مستحکم کرنے اور پاکستان میں توانائی کا تحفظ مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان نے اس ماہ کے اوائل میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کی جس سے علاقائی استحکام میں بہتری اور اقتصادی روابط کی تجدید کے لیے امید پیدا ہوئی۔

تہران پر بین الاقوامی پابندیوں، مالیاتی رکاوٹوں اور سفارتی دباؤ کی وجہ سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ برسوں سے تعطل کا شکار رہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں توانائی کی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے۔

نجی شعبے کی ایک آزاد ایڈووکیسی تنظیم پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو ایران سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دیتے ہوئے پائپ لائن پر مذاکرات بحال کرنے کے لیے موجودہ سفارتی ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے۔

فورم کے منتظمِ اعلیٰ احمد جواد نے ایک بیان میں کہا، "پاکستان کی معیشت کا مستقبل ارزاں اور قابلِ اعتماد توانائی پر منحصر ہے۔ توانائی کی حفاظت صنعتی ترقی، برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری سے براہِ راست منسلک ہے۔ اگر مناسب قانونی اور سفارتی فریم ورک کے اندر عملدرآمد کیا جائے تو ایران پاکستان گیس پائپ لائن ملک کے لیے ایک تزویری اقتصادی اثاثہ بن سکتی ہے۔"

مجوزہ پائپ لائن پاکستان کو یومیہ 750 ملین کیوبک فٹ قدرتی گیس فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی جو ملک میں گیس کی دائمی قلت کو ممکنہ طور پر دور اور بجلی کی پیداوار اور صنعت کے لیے ایندھن کی سپلائی میں اضافہ کر سکتی ہے۔

فورم نے کہا، پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً دو بلین ڈالر سالانہ ہے اور بہتر بینکنگ چینلز، سرحدی انفراسٹرکچر اور کسٹم کے طریقہ کار سے تجارتی تبادلے میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

گروپ نے دونوں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ نجی شعبے کی نمائندگی کے ساتھ مشترکہ اقتصادی کونسل قائم کی جائے اور اضافی سرحدی منڈیاں فعال، کاروباری ویزوں کی سہولت، مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور نقل و حمل کے روابط بہتر بنائے جائیں۔

پی بی ایف نے زراعت، کان کنی، سیاحت، قابلِ تجدید توانائی، پیداوار اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ایسے شعبوں کے طور پر شناخت کیا جو ہمسایہ ممالک کے درمیان مستقبل میں تعاون کی مضبوط صلاحیت کے حامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں