ایک کھرب ڈالر مالیت کا کالا دھن ایران بھجوا کر سفید کیا گیا

منی لانڈرنگ کے کاروبار میں ترک حکام نے بھی مال بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی میں ایران کی اقتصادی معاونت کی آڑ میں ہونے والی کرپشن کہانی کو منظر عام پر آئے ابھی چند روز گذرے ہیں لیکن بدعنوانی کے اس لامتناہی سلسلے کے نت نئے باب سامنے آ رہے ہیں۔

ایران کی کیمونسٹ پارٹی "تودہ" کے ایک مقرب نیوز ویب پورٹل "بیک نیٹ" نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ترکی سے ایران کی مالی معاونت کرنے والے ایرانی تاجر رضا ضراب اور اس کے ایک دوسرے ساتھی 'بانک زنجانی' نے ترک حکام کو رشوت دے کر 87 ارب یورو یعنی ایک کھرب ڈالر مالیت کی خطیر رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے تہران منتقل کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بھاری رقم سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی پالیسیوں کے باعث ایران پرعائد پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے استعمال ہوئی۔ منی لانڈرنگ کا سلسلہ احمدی نژاد کے آٹھ سالہ دور صدارت کے دوران پوری شد ومد کے ساتھ جاری رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کے اس میگا اسکینڈل میں ایرانی حکومت کے ساتھ پاسداران انقلاب اور مسلح افواج بھی ملوث تھے۔ اگر پاسداران انقلاب کی جانب سے اس کی اجازت نہ ہوتی تو کرپشن مافیا اتنی بڑی رقم ایران منتقل نہ کر پاتا۔

رپورٹ کے مطابق اصلاح پسند لیڈر ڈاکٹر حسن روحانی کے منصب صدارت پر فائز ہونے اور ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد احمدی نژاد کے دور میں ہونے والی لوٹ کھسوٹ کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران اور ترکی کے ذرائع ابلاغ یہ رپورٹ دے رہے ہیں کہ تہران اور انقرہ کی حکومتوں کے تعاون اور ان کے علم میں لائے بغیر اتنی خطیر رقم خرد برد نہیں کی جا سکتی۔ لا محالہ اس سارے کیس کے بارے میں ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن اور [سابق] ایرانی صدر محمود احمدی نژاد صورت حال سے بخوبی آگاہ رہے ہوں گے۔ ترک عدالت نے وزیر اعظم کے فرزند بلال ایردوآن کو ویسے ہی مشتبہ نہیں قرار دیا بلکہ ان کے اس کرپشن میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہوں گے۔

تُرک اخبار"ریڈیکل" نے وزیر اعظم طیب ایردوآن کے فرزند بلال پر زور دیا ہے کہ وہ کرپشن کیس کی جنوری میں ہونے والی سماعت میں پیش ہوں۔ اگر وہ عدالت کے حکم کے باوجود پیش نہ ہوئے تو اُنہیں آئین کی تعزیراتی دفعہ 146 کے تحت پولیس کے ذریعے حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کو غیر قانونی ذرائع سے رقوم بھجوانے کے لیے ترک وزراء بلیک میلنگ کا شکار ہوئے ہیں۔ وزراء اور حکومتی شخصیات نے بھاری رقوم وصول کرکے مشرقی ایران کے راستے تہران کو رقوم منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں