.

قتل کے ڈر سے قذافی نے پلاسٹک سرجری کرائی تھی: ڈاکٹر کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے سابق مقتول مرد آہن کرنل معمر قذافی اپنی مجموعہ اضداد شخصیت کے باعث مرنے کے بعد بھی خبروں کی دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہیں۔ ان کی جنسی ہوسناکی پر مبنی خبروں کے جُلو میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ انہوں نے مخالفین کے ہاتھوں قتل کے خوف سے اپنے چہرے کی سرجری اور سرکے نئے بال لگوائے تھے۔ اس امر کا انکشاف قذافی کے ایک برازیلی ذاتی معالج اور پلاسٹک سرجن ڈاکٹرلائیسیا ربیپیرو نے "بی بی سی" کے زیراہتمام بنائی گئی ایک دستاویزی فلم میں کیا ہے۔ ڈاکٹر لائیسیا اطالوی وزیراعظم سلیویرا برلسکونی کے بھی ذاتی معالج رہے ہیں۔

اخبار "میل آن لائن" کے مطابق برازیلی ڈاکٹر لائیسیا کا کہنا ہے کہ [مقتول] کرنل قذافی نے اپنے مخالفین کے ہاتھوں مارے جانے کے ڈر سے اپنی دونوں ہونٹوں کی پلاسٹک سرجری کے بعد انہیں بھرپور بنایا تھا اور سر میں بال بھی لگوائے تھے حالانکہ انہیں اس کی ضرورت تھی اور نہ ہی اس وقت کسی کا خوف یا خطرہ تھا۔

ایک سوال کے جواب میں برازیلی پلاسٹک سرجن کا کہنا تھا کہ قذافی ایک صحرائی انسان تھے۔ عموما صحراؤں میں رہنے والوں کے چہرے کی جِلد خراب ہوجاتی ہے۔ انہوں نے اپنے ہونٹوں کی پلاسٹک سرجری کے ساتھ بال بھی لگوائے تاکہ ہرکوئی انہیں پہچان نہ سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی" نے "قذافی کی پراسرار دنیا" کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم تیار کی تھی جس میں ان کی زندگی کے کئی ایسے گوشے سامنے لائے گئے تھے جو ماضی میں صیغہ راز میں رہے تھے۔ ان میں کرنل قذافی کے محل میں نوجوان لڑکیوں کے ایک قید خانے کا بھی انکشاف کیا گیا تھا جس میں قذافی کی من پسند لڑکیوں کو رکھا جاتا اور ان کی عصمت ریزی کی جاتی۔ اس قید خانے میں 14 سالہ بچیوں کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا، جو بار بار قذافی یا ان کے نورتنوں کے ہاتھوں اپنی عزت لٹوا بیٹھی تھیں۔

برازیلی ڈاکٹر لائیسیا نے کرنل قذافی کو چونکہ قریب سے دیکھ رکھا تھا اس لیے ان کے پاس قذافی کے بارے میں اہم معلومات بھی ہوسکتی ہیں۔ ڈاکٹر لائیسیا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قذافی ایک دلچسپ اور ٹیلیفونی نوعیت کے رنگین مزاج شخص تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کرنل قذافی کے چہرے کی پلاسٹک سرجری طرابلس میں ان کے ایک شاہی محل میں کی گئی۔ جہاں سرجری کی گئی وہ خود ایک بڑا اسپتال لگ رہا تھا اوراس کے زیر زمین کمرے بم پروف اور نہایت عمدہ تھے جہاں ہرطرح کی عصری سہولیات موجود تھیں۔

قبل ازیں اخبار "ڈیلی میل" نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ کرنل معمرقذافی اکثر کالجوں اور جامعات میں طالبات سے خطاب کرنے جاتے۔ خطاب کے دوران انہیں جو لڑکی پسند آتی اسے پاس بلا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ یہ اس امرکا کا اشارہ ہوتا کہ اسے اٹھا کران کے جنسی قید خانے میں منتقل کیا جائے۔ چنانچہ چند ہی دنوں میں کرنل کے خصوصی سیکیورٹی گارڈ یہ سارا کام راز داری میں کرتے ہوئے ان کی پسندیدہ لڑکیوں کو قید خانے میں ڈالتے رہتے تھے۔ جن بچیوں کے لواحقین خاموشی اختیار کرتے ان کی زندگی بخش دی جاتی اور جو اپنی بچیوں کے حوالے سے واویلا کرتے یا ان کی واپسی کے لیے کوئی بھی قدم اٹھاتے تو انہیں ختم کر دیا جاتا۔ قذافی اور ان کے مقربین کی جنسی ہوسناکی کا شکار ہونے والی کئی لڑکیوں نے بھی اس امرکی تصدیق کی ہے۔ ایک دوشیزہ نے بتایا کہ جامعہ طرابلس میں بھی ایک خفیہ قید خانہ تھا جہاں لڑکیوں کو اغواء کرکے رکھا جاتا اور ان کی عزت وناموس کے ساتھ کھیلا جاتا تھا۔