"الحدث" ٹیلی ویژن صحافت کا ایک منفرد نمونہ ثابت ہو گا
"العربیہ کی خبروں اور پروگراموں کا تنوع برقرار رہے گا"
العربیہ ٹیلی ویژن کے حال ہی میں ری لانچ کئے جانے والے برادر نیوز چینل 'الحدث' کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرحمان الراشد نے کہا ہے کہ "الحدث" ٹی وی اپنے ناظرین کے لیے ٹیلی ویژن صحافت کا ایک منفرد تجربہ اور نئی مثال قائم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ "العربیہ الحدث" کی نشریات اپنے حجم کے اعتبارسے کم مگر موضوعات کے اعتبار سے جامع ہوں گی۔ الحدث کے مادر ٹیلی ویژن نیٹ ورک "العربیہ" نیوز چینل کی طرح اس کی نشریات کا حجم زیادہ نہیں رکھا جائے گا۔ الحدث جن ایشوز پراپنی نشریات کو فوکس کرے گا ان کی مفصل معلومات اپنے ناظرین تک پہنچائے گا۔
العربیہ ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں اداروں کے ڈائریکٹر جنرل نے"الحدث" کی ٹیم بالخصوص نیوز ایڈیٹر نخلہ الحاج اور ان کے ساتھیوں کی شبانہ روز محنت کو سراہا۔ جنہوں نے راتوں کوجاگ کر العربیہ "الحدث" کو ایک ٹیلی ویژن صحافت کی دنیا میں ایک نیا آہنگ دیا ہے۔
العربیہ نیوز چینل کی حیثیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عبدالرحمان الراشد نے کہا کہ "العربیہ" ٹی وی کی نشریات پہلے شروع ہوئیں۔ اس لیے مرکزی حیثیت اسی کو حاصل رہے گی۔ یہ زیادہ سے زیادہ ایشوز پراپنی نشریات فوکس رکھے گا۔ مختلف موضوعات اور ایشوز پرخبروں کے علاوہ ٹاک شوز اور دیگر پروگراموں کا تنوع بھی العربیہ ہی کا خاصہ رہے گا۔ عرب خطے کی سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ بریکنگ نیوز میں "العربیہ" کو "الحدث" پر سبقت حاصل رہے گی۔
خیال رہے کہ "العربیہ الحدث" کی نشریات کا باقاعدہ آغاز دو روز پیشتر دبئی میں ہوچکا ہے۔ الحدث ٹیلی ویژن کی نشریات پر مشتمل ایک خصوصی گوشہ بھی "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی زینت بنایا گیا ہے۔ الحدث ٹیلی ویژن کی نشریات کا دائرہ عرب خطے کے کشیدگی کے شکار علاقوں تک رہے گا اور ناظرین کو وہاں کی صورت حال سے مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
-
"العربیہ" کی مدد سے منشیات گینگ کے خلاف کامیاب آپریشن
"اسپیشل مشن" کی ٹیم اور بحرینی حکام کی صبر آزما مشترکہ کارروائی
مشرق وسطی -
'العربیہ' کے برادر نیوز چینل 'الحدث' کی نشریات کا باقاعدہ آغاز
العربیہ نیوز چینل نے ہفتے کے روز اپنے برادر چینل العربیہ الحدث کی باقاعدہ نشریات ...
مشرق وسطی -
العربیہ کے زیر اہتمام ''مشرق، مغرب مواصلاتی خلیج'' کے موضوع پر مباحثہ
دبئی فورم میں مشرقی، مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شرکت کریں گی
بين الاقوامى