.

اسرائیلی فائرنگ سے زخمی فلسطینی فٹ بالرتاعمر میدان سے باہر

فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی کھیلوں کا بائیکاٹ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی صرف فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ ہر فلسطینی شہری اس کے یکساں مظالم کا شکار ہے۔ العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے دو فلسطینی فٹ بالراپنی ٹانگوں سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھیل کے میدان سے بھی باہر ہوگئے ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کو اپنے زخمی ہونے کا اتنا دُکھ نہیں جتنا کھیل سے محروم ہونے کا ہے۔


فلسطینی فٹ بال فیڈریشن کے چیئرمین جبریل الرجوب نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جارحیت کے ردعمل میں وہ صہیونی ریاست کا کھیل کے میدان میں عالمی بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آیندہ اپریل میں انٹرنیشنل فٹ بال فیڈریشن کے چیئرمین جوزف بلاٹر بھی فلسطین کے دورے پرآنے والے ہیں۔اس ضمن میں ان سے بھی تفصیل کے ساتھ بات کی جائے گی۔ ان کا اشارہ اسرائیلی پولیس کے ہاتھوں دو فلسطینی کھلاڑیوں کو گولیاں مار کر زخمی کرنے اور انھیں کھیل سے محروم کرنے کے المناک واقعے کی جانب تھا۔

رپورٹ کےمطابق مقبوضہ بیت المقدس کے ابودیس فٹ بال کلب سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینی کھلاڑیوں جوہرالجوہر اور ان کے چچا زاد آدم جوہر کو صہیونی فوج نے ایک میچ کھیلنے کے لیے جاتے ہوئے گولیاں ماردیں۔ گولیاں لگنے سے دونوں کھلاڑیوں کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ صہیونی ملٹری پولیس نے صرف اسی پربس نہیں کیا بلکہ ان پر تفتیشی کتے چھوڑ دیے جو ان کی زخمی ٹانگوں کو گوشت نوچتے رہے۔

"العربیہ" سے گفتگو میں جوہرالجوہراپنے ساتھ پیش آئے افسوسناک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انھیں اور ان کے چچا زاد کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے معذور کر دیا ہے۔ وہ فلسطینی اسپورٹس کے شعبے میں ایک خواب لے کر آئے تھے لیکن اب ان کے تمام خواب چکنا چور اور تمنائیں خاک میں مل گئی ہیں۔

اسپتال میں زیرعلاج دوسرے زخمی کھلاڑی آدم الجوھر نے بھی صہیونی فوج کے حملے پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جوافسوسناک واقعہ پیش آیا اسرائیل کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس لیے وہ اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ آدم کی والدہ نے بھی اسرائیلی پولیس کی غنڈہ گردی کی مذمت کی اور کہا کہ قابض فورسز نے ان کے بیٹے کا روشن مستقبل تاریک کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آدم جوہر ابھی جونیئر ٹیم میں شامل تھا لیکن اس کی کارکردگی سے سب لوگ بہت متاثر تھے۔ اسرائیلی فوج کا یہ حملہ فلسطینی اسپورٹس پر براہ راست حملہ ہے۔

خیال رہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کی سفاکیت کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ مغربی کنارے سے بیت المقدس آمد ورفت کےدوران حتی کہ مغربی کنارے کے دوسرے شہروں میں سفر کے دوران بھی فلسطینیوں کو اسی قسم کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسرائیلی فوجی جب اور جہاں چاہتے ہیں فلسطینیوں کو روک کران کی جامہ تلاشی لینا شروع کردیتے ہیں۔ انھیں گھنٹوں چیک پوسٹوں پر بٹھایا جاتا اور شناخت پریڈ کی جاتی ہے۔ بعض اوقات ان پر گولیاں چلائی جاتی اور تفتیشی کتے چھوڑے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں عام شہری تو غیر محفوظ ہیں ہی مگر کھیل سے وابستہ افراد بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں۔