تباہی کے دہانے سے آخری لمحوں کی ترامیم تک، ایران نے معاہدے کی تفصیلات جاری کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایرانی خبر رساں اداروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط سے قبل آخری گھنٹوں میں ہونے والی اہم پیش رفت کی تفصیلات جاری کی ہیں، جنہوں نے مذاکرات کو ناکامی کے دہانے سے نکال کر کامیابی سے ہمکنار کیا۔

ایرانی خبر ایجنسی ''مہر ''کے مطابق مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کے مسودے میں 14 شقیں شامل ہیں، جو کئی ماہ کے مذاکرات اور علاقائی و بین الاقوامی ثالثی کے بعد طے پانے والے معاہدے کا ابتدائی فریم ورک تشکیل دیتی ہیں۔

ایجنسی کے مطابق مسودے میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ ایران پر عائد امریکی بحری پابندیاں 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم کر دی جائیں گی، جبکہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس عمل کی نگرانی ایران کی زیرِ نگرانی طے شدہ انتظامات کے تحت کی جائے گی۔

دستاویز میں ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت پر عائد امریکی پابندیوں کی معطلی بھی شامل ہے، جسے اقتصادی اور مالیاتی پابندیوں کے وسیع تر خاتمے کی جانب پہلا قدم قرار دیا گیا ہے۔ یہ معلومات خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی نقل کی ہیں۔

منجمد فنڈز اور جوہری مذاکرات

مسودے کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے، جن میں سے نصف رقم حتمی مذاکرات کے آغاز سے پہلے ایران کے لیے دستیاب ہوگی۔

خبر ایجنسی ''مہر ''کے مطابق حتمی مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے ،جب تک منجمد فنڈز کا نصف حصہ جاری نہ کر دیا جائے، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں معطل نہ ہوں اور بحری ناکہ بندی ختم نہ کر دی جائے۔ ان اقدامات کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوہری پروگرام اور پابندیوں کے مکمل خاتمے کے طریقۂ کار پر 60 روزہ مذاکرات کیے جائیں گے۔

تاہم مسودے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حلیف گروہوں کی حمایت کے معاملات کو حتمی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

جنگ بندی اور تعمیرِ نو

مسودے میں تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

دستاویز میں ایک شق یہ بھی شامل ہے جس کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے پیش کرنے ہوں گے، تاکہ گزشتہ برسوں کے دوران پابندیوں اور تنازعات سے ہونے والے معاشی نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

بین الاقوامی حمایت

ایرانی خبر ایجنسی'' مہر ''کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی باضابطہ حمایت حاصل ہوگی، جس کے لیے دستخط اور عمل درآمد کے مراحل مکمل ہونے کے بعد ایک قرارداد جاری کی جائے گی۔

یہ تفصیلات ایسے وقت سامنے آئی ہیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان معاہدے تک پہنچنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

تاہم عالمی برادری اب مفاہمتی یادداشت کے مکمل متن اور اس کی مختلف شقوں پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کے اعلان کی منتظر ہے، جس کی وضاحت آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔

دلچسپ تفصیلات

ایرانی خبر ایجنسی'' فارس'' نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں آخری 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات کے نتیجے میں بنیادی نوعیت کی ترامیم کی گئیں۔

اس سے قبل ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل ہفتے کے روز معاہدے کے بنیادی خدوخال کی منظوری دے چکی تھی۔

ذرائع کے مطابق کئی اہم اور متنازع معاملات اتوار کی دوپہر تک حل طلب رہے۔ تاہم بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ الجنوبیہ) پر اسرائیلی حملے کے بعد صورتحال میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی، جس سے مذاکرات تقریباً ناکامی کے دہانے پر پہنچ گئے۔

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اسرائیل کے خلاف مختلف محاذوں سے وسیع حملوں کی تیاری کر رہا تھا، جبکہ مذاکرات معطل ہونے کے قریب تھے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست مداخلت اور ذرائع کے بقول تہران کو دی جانے والی ''نئی مراعات'' نے صورتحال بدل دی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ایران نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور مذاکراتی عمل دوبارہ متحرک ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کو قائل کیا گیا کہ مجوزہ معاہدہ ایران اور لبنان دونوں کے مفادات کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

آخری لمحوں میں اہم ترامیم

ذرائع کے مطابق معاہدے میں آخری وقت میں کی جانے والی سب سے نمایاں ترامیم میں امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ شامل ہے، جبکہ اس سے قبل کے مسودے میں یہ پابندیاں 30 دن کے اندر ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ ایک نئی شق بھی شامل کی گئی، جس کے تحت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے پر زور دیا گیا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی حاکمیت کے احترام کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی ''فارس'' کے مطابق اتوار کی رات کے آخری گھنٹوں تک مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران اسرائیل کے خلاف ممکنہ ردِعمل کے لیے فوجی تیاریاں بھی جاری تھیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایران کے نئے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد معاہدے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹیں بھی دور ہوگئیں۔رپورٹ کے مطابق اسی پیش رفت نے متوقع مفاہمتی یادداشت پر آئندہ جمعہ کو دستخط کی راہ ہموار کر دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں