لارنس آف عریبیہ: سو سال پرانا بل آج بھی واجب الادا

1914 میں شام کے ہوٹل میں مقیم رہا، بار کا بل ادا نہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب دنیا میں اپنے مخصوص اہداف کامیابی سے حاصل کرنے کے لیے بھیس بدلنے والے برطانوی افسر تھامس ایڈورڈ لارنس المعروف لارنس آف عریبیہ کی شخصیت کا ایک اب تک پوشیدہ رہنے والا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ موصوف عرب دنیا کے ہوٹلوں میں قیام اور طعام کا بل ادا کرنے میں بھی ڈنڈی مارنے میں کامیاب رہے۔

یہ حقیقت لندن کے برٹش میوزیم میں ایک سو سالہ پرانے مگر واجب الادا بل کے موجود ہونے سے سامنے آئی ہے۔ لارنس آف عریبیہ 1914 میں شام کے شہر حلب کے بارون ہوٹل بار میں گیا۔ یہاں لارنس نے کچھ ایپی ٹائزرز کے علاوہ مخصوص پسندیدہ مشروبات لیے، لیکن سو سال گذرنے کے بعد آج بھی اس بل کا ادا کیا جانا باقی ہے۔ لندن کے عجائب گھر میں اس انگریز ہیرو کی یہ یادگار اسی حالت میں محفوظ کر دی گئی ہے۔

اس ہوٹل میں ایک 23 سالہ شخص لارنس تھا جو آثار قدیمہ کے مشن کا رکن تھا، وہ شام میں تین برس تک مقیم رہا اور بالآخر 1914 میں یہاں سے روانہ ہوا۔ تاہم بارون میں اس کا قیام چند دن ہی رہا تھا۔ عجائب گھر میں رکھی دستاویز کے مطابق لارنس آف عریبیہ ہوٹل کے کمرہ نمبر 202 میں مقیم رہا۔ ہوٹل کی بار میں اس دوران اس نے چھ مختلف قسم کی ''مرغوبات'' سے لطف اٹھایا جن کا عثمانی دور کے 76 اعشاریہ ستر پیاسٹرز بل بنا، لیکن اس نے بل ادا کیے بغیر ہی ہوٹل چھوڑ دیا۔

اسی ہوٹل کے کمرہ نمبر 215 میں شامی بادشاہ فیصل نے قیام کیا اور لارنس کی یہاں سے روانگی کے چار سال بعد شام کی خلافت عثمایہ سے علیحدگی کا اعلان اسی ہوٹل کی بالکونی سے کیا۔ مصر کے جمال عبدالناصر بھی اسی ہوٹل میں مقیم رہ چکے ہیں۔ یہ ہوٹل مغربی دنیا کے ممتاز شخصیات کا مسکن رہ چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں