.

بھکر کے آدم خور بھائیوں کو 12،12 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سرگودھا ڈویژن کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ضلع بھکر سے تعلق رکھنے والے دو آدم خور بھائیوں کو گھناؤنے فعل کا مجرم قرار دے کر بارہ ،بارہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ضلع بھکر کی پولیس نے قصبے دریا خان کے ایک نواحی گاؤں کہواڑ کلاں سے تعلق رکھنے والے ان دونوں بھائیوں محمد فرمان اور محمد عارف کو اپریل میں انسانی لاشوں کو پکا کر کھانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف ڈویژنل صدر مقام سرگودھا میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

پولیس نے پینتیس سالہ محمد عارف اور اس کے تیس سالہ بھائی محمد فرمان کے گھر سے مقامی لوگوں کی نشان دہی پر دو بچوں کے سر اور بعض اعضاء برآمد کیے تھے جن کا وہ گوشت پکا کر کھا گئے تھے۔پولیس کے مطابق ماضی میں ان دونوں بھائیوں نے مقامی قبرستان میں ایک سو قبروں کو کھود کر ان میں تازہ دفن کی گئی لاشوں کو نکالا تھا اور ان کا گوشت پکا کر کھا گئے تھے۔

بھکر پولیس نے ان آدم خور بھائیوں کے خلاف انسانی لاشوں کی بے حرمتی اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا کیونکہ تعزیرات پاکستان میں انسانی لاش کو پکا کر کھانے کے جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں ہے۔تین سال قبل 2011ء میں بھی ان پر انہی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں صرف دو، دوسال قید کی سزا ہوئی تھی۔وہ گذشتہ سال ہی یہ سزا کاٹنے کے بعد رہا ہوئے تھے۔

2013ء میں رہائی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر انسانی لاشیں قبروں سے نکال کر اور انھیں پکا کر کھانے لگ گئے تھے۔پولیس کو مقامی لوگوں کی اطلاع کے بعد اپریل کے اوائل میں ان کے گھر سے ایک کم سن لڑکے کا سر اور بعض اعضاء ملے تھے۔

ان دونوں بھائیوں کی پہلی مرتبہ گرفتاری کے وقت انھیں کسی ماہر نفسیات کو نہیں دکھایا گیا تھا جو اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا کہ وہ مردہ خور کیونکر بن گئے تھے اور انسانی لاشیں قبور سے نکال کر اور پکا کر کھانے لگ گئے تھے۔

تاہم مقامی پولیس نے اپنی تفتیش کے حوالے سے بتایا تھا کہ دونوں بھائی ایک جادو والے کے چکر میں اس مکروہ دھندے میں پھنس گئے تھے۔ اس جادوگر کو مقامی لوگوں نے کچھ سال پہلے ایک قبر سے لاش چراتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا لیکن وہ پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا تھا۔ پولیس کی پوچھ تاچھ کے دوران مجرم فرمان علی نے تسلیم کیا تھا کہ ''اس نے اپنے پڑوسیوں پر جادو کرنے کے لیے قرآن کی کچھ آیات کو الٹا پڑھا تھا لیکن اس جادو کی کامیابی کے لیے دونوں بھائیوں کو پاکیزگی کے ساتھ رہنا تھا اور آدم ذات کا گوشت کھانا تھا''۔

اس کے بعد ان دونوں بھائیوں کو مردہ آدم ذات کا گوشت کھانے کی ایسی لت پڑی کہ وہ جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ اس درندگی کا مظاہرہ کرنے لگ گئے اور انسانی لاشیں قبروں سے نکال کر اور انھیں پکا کر کھانے لگ گئے تھے۔