.

فٹ بال حرام ہے:اسرائیلی میڈیا نے پرانا سعودی فتویٰ ڈھونڈ نکالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی نظریں اس وقت برازیل پر لگی ہوئی ہیں جہاں سب سے مقبول کھیل فٹ بال کے عالمی کپ ٹورنا منٹ کا آغاز ہوگیا ہے۔ایسے میں اسرائیلی میڈیا کی نظریں سعودی عرب کی جانب مرکوز ہوگئی ہیں اور اس نے ایک سعودی عالم دین شیخ عبدالرحمان البراق کا ایک سال پرانا فتویٰ ڈھونڈ نکالا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ فٹ بال کے کھیل سے لوگوں کے وقت کا ضیاع ہوتا ہے،اس لیے اس پر پابندی عاید کی جانی چاہیے۔

اسرائیل کے ایک سابق ملٹری انٹیلی جنس افسر یگال کارمون اور اسرائیلی نژاد امریکی ماہر سیاسیات میراف ورمسر کے قائم کردہ ادارے مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (میمری) نے بدھ کو شیخ عبدالرحمان البراق کے اس فتویٰ نما بیان کا ترجمہ شائع کیا ہے۔

اس بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ''فٹ بال ایک ناپسندیدہ کھیل ہے ،اس سے لوگوں کے وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور وہ دشمنان اسلام کے غیر اخلاقی رسوم ورواج کو اپنا لیتے ہیں اور کافر فٹ بال کھلاڑیوں کو مقدس شخصیات کا درجہ دے دیتے ہیں''۔

میمری کے ترجمے کے مطابق شیخ البراق نے یہ فتویٰ ایک سائل کے سوال کے جواب میں جاری کیا تھا جس میں اس نے یہ پوچھا تھا کہ غیرملکی کھلاڑیوں کی مدح سرائی کرنے والے فٹ بال شائقین کے طرز عمل کا کیونکر جواب دیا جاسکتا ہے۔

میمری نے داد تحقیق دیتے ہوئے فٹ بال کے کھیل کے خلاف یہ سعودی فتویٰ تو تلاش کر لیا اور اس کو ترجمے کے ساتھ شائع بھی کردیا ہے لیکن اس نے یہ بالکل بھی وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ فتویٰ مارچ 2013ء میں جاری کیا گیا تھا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس کو سوا ایک سال کے بعد اب دوبارہ چھاپنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔

اسرائیلی اخبار دی یروشیلم پوسٹ نے فوری طور پر میمری کی تحقیق کا حاصل اس فتوے کو خبر کی صورت میں شائع کردیا ہے۔اس اخبار نے لکھا کہ ''جمعرات کی شب برازیل میں فٹ بال عالمی کپ کا آغاز ہورہا ہے لیکن اس سے ہر کوئی خوش نہیں ہے''۔

اس اخبار نے انٹرنیٹ پر ہی سہی،مزید تحقیق کرنے کے بجائے اپنے قارئین کو یہ بتانا ضروری خیال کیا ہے سعودی عالم دین شیخ عبدالرحمان البراق نے اپنے ''حالیہ فتویٰ'' میں فٹ بال کے کھیل کو اخلاقی اور سماجی طور پر ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

یہ معاملہ صرف یروشیلم پوسٹ تک ہی محدود نہیں رہا ہے بلکہ دوسرے اسرائیلی اخبارات نے بھی اس فتوے کو کسی قسم کے وضاحتی نوٹ کے بغیر شائع کرنا ضروری خیال کیا ہے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی رپورٹس کا معیار تحقیق کیا رہا ہو گا اور تحقیق کے نام پر ادارے میمری کا تحقیقی معیار کس پایہ کا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے بعض علمائے دین اس طرح کے متنازعہ یا ان کی ذاتی آراء پر مبنی فتاویٰ جاری کرتے رہتے ہیں جس پر انھیں دوسرے علمائے دین ،دانشوروں اور عام قاریوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شیخ البراق کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا تھا لیکن میمری نے اپنی رپورٹ میں اس تنقید کا کوئی حوالہ نہیں دیا ہے۔

عرب دنیا سے باہر پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں فتوے بازی کا کاروبار خوب پھلا پھولا ہے اور دین کی معمولی شُد بُد رکھنے والے اصحاب ''فن'' ٹیلی ویژن چینلوں پر آ کر حساس موضوعات پر فتاویٰ جاری کرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی ایک مکتب فکر کے عالم دین نے کوئی فتویٰ جاری کیا ہے اور وہ خواہ شریعت کے مطابق درست ہی کیوں نہ ہو تو دوسرے مکتب فکر کے علمائے دین اس کے خلاف بیان یا جوابی فتویٰ جاری کرنا ضروری خیال کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو کافر ،غدار یا ملک دشمن قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ہین جس پر نوبت سرپھٹول اور قتل وغارت تک پہنچ جاتی ہے۔