.

شام میں النصرہ محاذ کی شیر خوار فرانسیسی 'مجاھدہ'

شہادت کا متلاشی باپ نو عمر بیٹی شامی محاذ جنگ پر لے آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو سالہ عرب نژاد فرانسیسی بچی آسیہ کو دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' اور النصرہ محاذ کی تاریخ میں سب کم عمر جہادی مھاجر ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔

آسیہ کے والد نے شام میں جنگجووں کے ساتھ لڑنے کے لئے نہ صرف خود فرانس کی پرتعیش زندگی ترک کی بلکہ وہ اپنی دو سالہ بیٹی آسیہ کو بھی میدان جنگ ساتھ لے آیا۔

العربیہ نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام 'صناعہ الموت' کی ٹیم نے پیرس میں آسیہ کی والدہ مریم رحیم سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ شام کے خونی محاذ منتقلی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دو سالہ بچی میدان جنگ میں کیا کام کر سکتی تھی؟

فرانسیسی شہر ایوننیون میں مقیم مریم نے 'العربیہ' کے نیوز اینکر محمد الطمیحی کو بتایا کہ انہوں نے آسیہ کی پیدائش کے تیسرے مہینے بعد شوہر سے طلاق لے لی تھی کیونکہ وہ بہت زیادہ تبدیل ہو چکا تھا، اس نے ملازمت چھوڑ دی۔ وہ اپنا زیادہ وقت انٹرنیٹ پر صرف کرنے لگا، جہاں اس کی ملاقات متشدد دینی خیالات کے حامل نوجوانوں سے ہوئی۔

مریم نے بتایا کہ آسیہ کے والد سے علاحدگی کے باوجود اس کا سابقہ شوہر اہل خانہ سے رابطے میں رہا، وہ ہر ہفتے اپنی بیٹی سے ملنے آتا اور کبھی کبھار اسے سیر کرانے پارک لے جاتا، اس طرح زندگی گذرتے گذرتے اس مرحلے آ گئی کہ آسیہ ڈیڑھ برس کی ہو گئی۔ ابو آسیہ ایک دن اچانک بیٹی کے ساتھ غائب ہو گیا اور بعد میں چند دنوں بعد اس نے ترکی پہنچ کر بتایا کہ وہ شام لڑنے جا رہا ہے، اور پھر عملا ایسا ہی ہوا۔

ام آسیہ نے بتایا کہ میں نے اپنے سابقہ شوہر کی بہت زیادہ منت سماجت کی کہ وہ میری بیٹی مجھے لوٹا دے، لیکن بیٹی لوٹانے کے بجائے اس کے سابقہ شوہر نے آسیہ کی ایک تصویر بھیجی جس میں ننھی آسیہ کے سر پر کلمہ طیبہ سے مزین سیاہ پٹی بندھی ہوئی تھی، جو عمومی طور پر عراق میں داعش اور النصرہ محاذ کے جنگجو تنظیم سے اپنی وابستی کے اظہار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ آسیہ کے والد نے اپنی سابقہ اہلیہ کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو محاذ جہاد پر اس لئے لیکر آیا ہے تاکہ وہ خود جہاد میں شریک ہو اور پھر اپنے مال اور حتی کے اولاد کو جہاد میں کھپا دینے کا عملی نمونہ بن سکے۔

اس ملاقات کی تفصیل اور آسیہ کی اپنی ماں کے پاس واپسی کی کوششوں پر مبنی تفصیلی رپورٹ جمعہ کے روز العربیہ کے پروگرام صناعہ الموت میں ملاحظہ کریں، جو گرینچ کے معیاری وقت 16:30 پر پیش کیا جائے گا۔