.

زیر نگیں شہر میں کتنی کنواری لڑکیاں ہیں؟ داعش سروے

انوکھے سروے پر بیجی کے عوام میں خوف و ہراس کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے عسکریت پسندوں کے زیر قبضہ قصبے بیجی کے شہریوں کو عسکریت پسندوں سے یہ خوف دامن گیر ہو گیا ہے کہ ان کی غیر شادی شدہ لڑکیاں اسلامی عسکریت پسندوں کی دست برد سے کیسے محفوظ رہیں گی.

مقامی لوگوں کے مطابق عسکریت پسند گھر گھر جا کر یہ معلومات جمع کر رہے ہیں کہ کس کے ہاں کتنی شادی شدہ اور کتنی غیر شادی شدہ خواتین موجود ہیں۔ یہ بات برطانوی اخبار ''انڈی پینڈینٹ'' نے رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے ' لوگ اس کوشش میں ہیں کہ اپنی بچیوں کو سنی عسکریت پسندوں سے بچا سکیں۔''

واضح رہے یہ قصبہ داعش کے زیر قبضہ ہے۔ ایک مقامی شخص نے اپنے خوف کا اظہار کرتے ہوئے کہا جب اس کے گھر پر دستک دے کر یہ سوال پوچھے گئے کہ گھر میں شادی شدہ اور غیر شادی خواتین کی تعداد کیا ہے۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا '' ہمارے گھر میں دو ہی خواتین ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں۔''

اس پر غیر شادی شدہ خواتین کے بارے میں سروے کے لیے آنے والے شخص نے کہا ''ہمارے مجاہدین کی بڑی تعداد غیر شادی شدہ ہے، وہ شادی کر کے ایک بیوی چاہتے ہیں۔''

مقامی شخص نے یہ بھی کہا کہ سروے کے لیے آنے والے عسکری ذمہ دار نے اس موقع پر اصرار کیا کہ وہ گھر میں داخل ہو کر شناختی کارڈ چیک کرنا چاہتے ہیں تاکہ تصدیق ہو سکے واقعی سب شادی شدہ خواتین ہیں۔

''انڈی پینڈنٹ'' کے مطابق داعش کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے لوگوں کو کہہ رکھا ہے کہ سنی لوگوں کو پریشان نہ کیا جائے۔ تاہم بہت سے علاقوں میں عسکریت پسند اپنی پسند کی اقدار مسلط کر رہے ہیں۔

خیال رہے اس بیجی قصبے سے کچھ ہی فاصلے پر عراقی فوج عسکریت پسندوں کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر قبضے کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ قصبہ بغداد سے شمال میں واقع ہے۔