.

داعش نے شام میں خواتین کے لیے شادی دفتر کھول لیا

کنواری دوشیزاؤں اور بیواؤں کو جہادی نوجوانوں سے نکاح کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اورعراق میں برسرپیکار دولت اسلامی (داعش) نے کنواری دوشیزاؤں اور بیوہ خواتین کے لیے شادی دفتر کھول لیا ہے اور ان کو پیش کش کی ہے کہ وہ اس کے جنگجوؤں کے ساتھ بیاہ کرسکتی ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اس جہادی گروپ نے شام کے شمالی صوبے حلب میں اپنے زیرنگیں قصبے الباب میں شادی دفتر کھولا ہے اور کنواری دوشیزاؤں اور بیواؤں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس دفتر کے ذریعے جنگجوؤں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوسکتی ہیں۔

آبزرویٹری نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ شادی میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیوں سے اپنے نام اور پتے درج کرانے کے لیے کہا جارہا ہے اور انھیں بتایا جارہا ہے کہ اس کے بعد داعش کے جنگجو ان کے دروازوں پر باضابطہ شادی کے لیے دستک دیں گے۔

داعش کے جنگجوؤں نے ایک جانب توعورتوں کو ناجائز جنسی تعلقات کے الزام میں سنگسار کرنے کی سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور دوسری جانب وہ عراق میں صدیوں سے موجود انبیاء اور صلحاء کے مزارات کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔

لیکن شدت پسندی کی غماز ان سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اب داعش نے اپنا نرم پہلو ظاہر کرنے کے لیے بعض ثقافتی سرگرمیاں بھی شروع کررکھی ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے اپنے زیرنگیں علاقوں میں سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں۔وہ بسوں کے ذریعے نوبیاہتا جہادیوں اور عام شہریوں کو اپنی ''خلافت'' کے علاقوں کی سیروسیاحت پر لے جارہے ہیں۔وہ شام کے شمالی شہر الرقہ سے سیاحوں کو عراق کے صوبہ الانبار میں ہفتے میں دو مرتبہ بسوں پر لے کر جاتے ہیں۔ان بسوں پر داعش کے سیاہ پرچم لہرا رہے ہوتے ہیں اور پورے سفر کے دوران جہادی ترانے سیاحت کے شوقین حضرات کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے عراق کے پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بیشتر علاقوں پرقبضہ کرکے خلافت کے نام سے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے اور وہ آہستہ آہستہ اپنے زیرنگیں علاقوں میں کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے اپنے نظریہ حکومت کے مطابق احکامات جاری کررہے ہیں۔دو روز پہلے ہی انھوں نے نے عراق کے شمالی شہر موصل اور اس کے نواح میں رہنے والی گیارہ سے چھیالیس سال کے درمیان عمر کی لڑکیوں اور خواتین کے ختنوں کا جاری کیا تھا۔ان کے اس فتویٰ نما حکم سے عراقی خواتین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔