.

صہیونی صحافت:فلسطینی اموات پرشاداں،زخمی اُلو پرمغموم

حماس کے راکٹ حملے میں زخمی اُلو سے متعلق اسرائیلی اخبار میں رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں اسرائِیلی فوج کی گذشتہ بیس روز سے جاری وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ایک ہزار ساٹھ سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور ان میں ایک کثیر تعداد کم سن بچوں اور خواتین کی ہے۔چونکہ یہ فلسطینی ہیں ،اس لیے صہیونی میڈیا کے نزدیک ان کی جانوں کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے مگر اس کو حماس کے ایک راکٹ حملے میں زخمی ہونے والے اُلو کا غم کھائے جارہا ہے۔

اسرائیلی روزنامے ''ٹائمز آف اسرائیل'' کے صفحات میں اسرائیلی جارحیت کا شکار فلسطینیوں کے لیے تو کوئی جگہ نہیں ہے لیکن اس نے زخمی اُلو کی کہانی پر مبنی خبر کو ضرور اپنے ویب صفحات کی زینت بنایا ہے اور اس کی یہ سُرخی جمائی ہے:''حماس کے فائر سے زخمی ہونے والا اُلو صحت یاب ہورہا ہے''۔

اس اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ اُلو غزہ کی سرحد کے نزدیک مارٹر گولے کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوا تھا۔ویٹرنری کے ایک طالب علم کو یہ اُلو ملا تھا اور وہ حماس کے مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں میں وقفہ آنے کے بعد اس کو تل ابیب کے نزدیک واقع رامات گین کے زوآلوجیکل پارک میں لے گیا تھا۔

اخبار نے اس اُلو کے زخمی ہونے کی رپورٹ عام الفاظ میں نہیں لکھی ہے بلکہ اس کا پورا نوحہ بیان کیا ہے اور اپنے قارئین کو بتایا ہے کہ ''اس غریب مخلوق کی دائیں آنکھ کی نظر جاتی رہی ہے،اس کی چونچ ٹوٹ گئی ہے اور ٹکڑے لگنے سے اس کے سر میں بھی زخم آئے ہیں''۔ اس کی دیکھ بھال کرنے والے ویٹرنری کے طالب علم کو توقع ہے کہ وہ صحت یاب ہونے پر اس کو جنگل میں دوبارہ چھوڑ آئے گا۔