.

داعش نے شام میں تیل کے نئے کنوئوں کی کھدائی شروع کر دی

عالمی اتحادیوں کے فضائی حملے غیر موثر ہو کر رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں کئی درجن ممالک اس وقت شام اور عراق میں تیزی سے آگے بڑھتے دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے پراسرار دیو سے نمٹنے کے لیے بھرپور فضائی حملے کر رہے ہیں مگر ایسے لگ رہا ہے کی ایک ماہ سے جاری فضائی آپریشن میں ’’داعش‘‘ کو کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچایا جا سکا ہے کیونکہ شام میں یہ تنظیم نہ صرف جنگی محاذ کے اپنے مورچوں پر موجود ہے بلکہ اس نے تیل کی تلاش کے لیے نئے کنوئوں کی کھدائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی’’رائیٹرز‘‘ نے شامی شہریوں اور آئل سیکٹر کے حکام کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شدت پسند گروپ نے شام میں تیل نکالنے اور اس کی فروخت کا عمل بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔ عالمی اتحادیوں کے فضائی حملے داعش کی تیل کی پیداوار اور اس کی فروخت پر اثر انداز نہیں ہو سکے ہیں۔ بلیک مارکیٹ میں قدرتی تیل کی فروخت ہی اب بھی داعش کی آمدنی کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔

اگرچہ امریکا اور اس کے عرب اتحادیوں نے شام میں داعش کے زیر انتظام تیل صاف کرنے والے کئی کارخانوں پر بمباری کی ہے۔ خاص طور پر مشرقی شام میں تیل کے ان کنوئوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جو دولت اسلامی کے جنگجوئوں کے قبضے میں ہیں۔ ان حملوں کے باوجود مشرقی شام میں داعش کی آئل فیکٹریاں بدستور کام کر رہی ہیں اور تنظیم ان سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق داعش ان آئل ریفائنریوں سے 2 ملین ڈالر کی رقم یومیہ کما رہے ہیں۔

تیل کی تلاش، نئے کنوئوں کی کھدائی

داعش کے جنگجو جہاں پہلے سے زیر قبضہ تیل کے ذخائر سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں، وہیں انہوں نے شام میں تیل کے حصول کے لیے نئے کنوئوں کی کھدائی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

شام کے شہر دیر الزور میں الشحیل قصبے کے ایک قبائلی رہ نما عبداللہ الجدعان نے بتایا کہ داعش نہایت منظم انداز میں تیل کی صفائی، نکاسی اور نئے کنوئوں کی تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ تیل کے حصول کے لیے کئی مقامات پر نئے کنوئیں کھودے گئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ داعش اپنے زیر تسلط علاقوں میں تیل کی تلاش اور کنوئوں کی کھدائی کے لیے مقامی آبادی سے بھی مدد لے رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دولت اسلامی کے جنگجو تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو چلانے میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے۔ انہوں نے ان کارخانوں میں پہلے سے کام کرنے والے ہی ماہرین ہی کو بھرتی کر رکھا ہے۔ شام سے نکالنے جانے والے قدرتی تیل کو عالمی منڈی کی قیمتوں سے کئی گنا سستا بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں فی بیرل تیل 350 ڈالر تک بھی چلا جاتا ہے مگر داعش اسے ترکی کے راستے دوسرے ملکوں تک پہنچاتی ہے اور اسے کم قیمت میں فروخت کیا جاتا ہے۔

تیل کے ارزاں نرخ اور آفرز

شام میں تیل کی تجارت کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ داعش نے اپنے زیر انتظام علاقوں میں تیل کی ترسیل کا کام بھی نہایت منظم انداز میں شروع کر رکھا ہے۔ داعش کی جانب سے مقامی تاجروں کو کم قیمت پر تیل کی فروخت کی پیش کش کی جاتی ہے اور تاجروں سے کہا جاتا ہے وہ خرید کردہ تیل کی جلد از جلد ادائیگی کریں۔

ایک مقامی تاجر نے بتایا کہ دن کے اوقات میں بھی بعض اوقات تیس تیس آئل ٹینکروں کے قافلے داعش کے زیر انتظام علاقوں سے تیل لے کر روانہ ہوتے ہیں۔ چیک پوسٹوں پر انہیں جلدی سے آگے گذار دیا جاتا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں کے باوجود تیل کی فروخت کا سلسلہ بدستور جاری وساری ہے۔ داعش نے مقامی گاہکوں پر زور دیا ہے وہ زیادہ سے زیادہ تیل خرید کریں اور کم سے کم وقت میں اس کی ادائیگی کرتے چلے جائیں۔

ذرائع کے مطابق داعش نے تیل کے اخراج کی نگراں کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ کنوئوں سے زیادہ سے زیادہ مقدار میں تیل نکالنے کے بعد محفوظ مقامات پر ذخیرہ کریں اور انہیں آئل ٹینکروں میں لوڈ کرتے جائیں۔ یہ ھدایت فضائی حملوں کے خطرے کے تناظر میں دی گئی ہے کیونکہ عالمی اتحادیوں کی جانب سے تیل کے ذخائر پرحملوں کا ہر وقت امکان رہتا ہے۔

دیر الزور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ تیل کی دولت سے صرف داعش ہی استفادہ نہیں کر رہی ہے بلکہ مقامی قبائل اور با اثر شخصیات بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ بعض مقامات پر تیل کے کنوئوں کی نگرانی بھی مقامی قبائلیوں کے پاس ہے جو داعش کی ہدایات کے مطابق تیل نکالتے اور فروخت کرتے ہیں۔