.

فرانس: بشارالاسد کے چچا سے 10 کروڑ ڈالرز کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کے چچا رفعت الاسد سے فرانس میں قریباً نو کروڑ یورو دولت اکٹھی کرنے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔انھیں قریباً تیس سال قبل شام سے خالی ہاتھ بے دخل کردیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اس وقت ایک گھوڑا فارم (اسٹڈ فارم) اور متعدد لگژری اپارٹمنٹس کے مالک ہیں۔

رفعت الاسد شام کے مرحوم صدر حافظ الاسد کے چھوٹے بھائی ہیں۔انھیں اپنے بھائی کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اقتدار پر قبضے کی کوشش کے الزام میں جبری جلاوطن کردیا گیا تھا۔اس کے بعد وہ گذشتہ تیس سال کے دوران پیرس ،لندن اور سپین کے جنوبی شہر ماربیلا میں شاہانہ زندگی گزارتے رہے ہیں اور ان شہروں کے درمیان وہ برابر سفر کرتے رہے ہیں۔

فرانسیسی تحقیقات کاروں نے ان کی دولت اور ذرائع آمدن کی تحقیقات کی ہے۔فرانسیسی کسٹمز کی مئی 2014ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ان کے خاندان کے اثاثوں کی مالیت نو کروڑ یورو (نوکروڑ اسّی لاکھ ڈالرز) کے لگ بھگ تھی۔انھوں نے اس میں زیادہ تر دولت لکسمبرگ میں مختلف کاروباروں کے ذریعے کمائی تھی۔

ان کے اثاثوں میں پیرس کے نزدیک ایک اسٹڈ فارم ،دو مینشن ،دو اپارٹمنٹ بلاک اور ایک پلاٹ شامل ہے۔رفعت نے تحقیقات کاروں کو بتایا تھا کہ انھوں نے جب شام کو خیرباد کہا تھا تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور وہ اپنی تن خواہ غریبوں کو خیرات کردیا کرتے تھے۔

ذرائع کے مطابق رفعت نے بتایا تھا کہ اس وقت کے فرانسیسی صدر فرانسو متراں نے ان سے فرانس آنے کے لیے کہا تھا کیونکہ وہ ان پر بہت مہربان تھے۔رفعت الاسد کے اثاثوں کی تحقیقات مالیاتی جرائم کا شکار افراد کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ ''شرپا'' نے شروع کی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے یہ تمام دولت شامی رجیم کا حصہ ہوتے ہوئے ہتھیائی تھی۔

تاہم ان کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ ان کی تمام دولت مخیّر سعودیوں سے ملنے والے تحائف کا نتیجہ تھی۔ان میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم بھی شامل تھے جو خود بھی گُھڑ دوڑ کے شائق تھے۔

رفعت کے تینتالیس سالہ بیٹے ثمر الاسد نے اسی سال کے اوائل میں تحقیقات کاروں کو بتایا تھا کہ '' میرے والد کو اسٹڈ فارم سعودی عرب کے شہزادہ ( مرحوم شاہ) عبداللہ نے دیا تھا''۔خود رفعت کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے دولت مند دوستوں سے ملنے والے تحائف کی سرمایہ کاری کی تھی لیکن اس کی انھوں نے کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

خاندان کے دوسرے لوگوں نے بھی ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جن سے پتا چلا ہے کہ سنہ 1980 ء کے عشرے میں ان کی جلاوطنی کے بعد سعودی عرب کے مخیّر حضرات نے ان کی حمایت کی تھی۔ان کے بہ قول رفعت بنیادی طور پر اپارٹمنٹس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن اور سعودی عرب کی جانب سے مسلسل امداد سے ان کی زندگی کی گزر بسر ہورہی تھی۔تاہم ان کے وکیل بنجمن گرینڈلر کا کہنا تھا کہ ''یہ شامی رقم نہیں ہے''۔

شامی امور کے ماہر اور سی این آر ایس یونیورسٹی لیونس کے پروفیسر فیبرک بیلانچی نے تحقیقات کاروں کو بتایا تھا کہ انھیں رفعت الاسد کی دولت کے حوالے سے وضاحتوں کے بارے میں شُبہ ہے۔سعودی عرب کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ وہ کسی چیز کی بھی نمائندگی نہیں کرتے تھے۔

رفعت الاسد شام کی بدنام زمانہ داخلی سکیورٹی فورسز کے 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں کمانڈر رہے تھے۔ان فورسز نے 1982ء میں حماہ میں اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کارروائی میں دس سے پچیس ہزار کے درمیان شہری ہلاک ہوگئے تھے۔