.

’’ولایت فقیہ کا نظام ایران تک محدود رکھا جائے‘‘

حزب اللہ، اخوان المسلمون تنہا اسلام کے نمائندہ نہیں: شیعہ عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ایک ممتاز شیعہ مذہبی پیشوا السید علی الامنین نے کہا ہے کہ ایران کے ولایت فقیہ کا تعلق کسی مخصوص سیاسی مکتب فکر سے نہیں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ولایت فقیہ کے نظام کو ایران سے باہر کسی دوسرے ملک میں بھی نافذ کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ اس نظام کو ایران کے اندر تک ہی محدود رکھا جائے۔

العربیہ نیوز کے برادر ٹیلی ویژن چینل ’’الحدث‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے السید الامین کا کہنا تھا کہ میں نے ایرانی نظام کو سنہ 1980ء میں مسترد کر دیا تھا۔ ریاست کی کمزوری کے باعث لبنان میں ایرانی نقطہ نظر کو تقویت ملی۔ میرے خیال میں چونکہ ریاست پوری قوم کے لیے چھتری کی مانند ہوتی ہے، اس لیے فیصلہ کن اتھارٹی بھی ریاست ہی کے پاس ہونی چاہیے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں لبنانی شیعہ عالم دین کا کہنا تھا کہ مختلف مذاہب اور ادیان کے درمیان باہمی ربط ملکوں اور اوطان کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم ایرانی نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے حزب اللہ پر زور دیا کہ وہ شام کے میدان جنگ سے خود کو الگ کرے۔ الشیخ علی الامین کا کہنا تھا کہ ایران نے کسی عرب شیعہ رہ نما کو یرغمال نہیں بنایا کیونکہ عرب ممالک میں کئی تنظیموں کے تہران کے ساتھ بھی رابطے ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں الشیخ علی الامین کا کہنا تھا کہ اقوام کبھی بھی اشتعال انگیز تقاریر سےمستفید نہیں ہوتے اور نہ ہی جلتی پر تیل چھڑکنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح اخوان المسلمون تنہا سنی اسلام کی نمائندہ نہیں، اسی طرح حزب اللہ بھی شیعہ مسلک کے پیروکاروں کی اکلوتی نمائندہ نہیں ہے۔ دنیا میں ان دو کے علاوہ اور بھی جماعتیں موجود ہیں جو دین اسلام کی خدمت کرتی ہیں۔ ان کی اتباع بھی ضروری ہے۔ انہوں نے عرب ممالک میں جاری موجودہ کشیدگی کو محض سیاسی قرار دیا اور کہا کہ عرب ملکوں میں شورش مسلکی یا مذہبی تصادم نہیں بلکہ اس کے سیاسی محرکات ہیں۔

شیعہ عالم دین کا کہنا تھا کہ صدیوں سے مسلمان شیعہ اور سنی مسلک کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کو اپنائے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔ ماضی میں کبھی شیعہ اور سنی کی بنیاد پر کوئی فساد نہیں ہوا ہے۔