'جمعہ 13 تاریخ' کی نحوست اور پیرس میں دہشت گردی!
عدد 13 کی نحوست کا تصور شام وعراق سے چلا اور مغرب نے اپنا لیا
انسان کی مادی ترقی کا سفر جس تیزی سے جاری ہے مگر اس کے ذہن میں دور قدیم سے جاگزیں خیالات، مفروضے اور دیو مالائی داستانوں پر یقین آج بھی قائم ہے، جو صدیوں قبل تھا۔ توہمات کی دنیا میں بسنے والا انسان آج بھی اس کے سحر سے باہر نہیں آ سکا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں انسان کی اسی توہم پرستی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ توہم پرستی کے بے شمار مظاہر ہیں مگر ایک حالیہ واقعے کا منحوس سمجھی جانے والی تاریخ میں ظہور پذیر ہونا محض اتفاق ہے یا واقعی یہ تاریخ اور دن جب ایک ساتھ آئیں تو انسان کے لیے خیر نہیں بلکہ اجتماعی شر لے کر آتے ہیں؟
مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں "13" کا عدد منحوس خیال کیا جاتا ہے مگر کئی معاشروں میں اس کی نحوست کے حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ اگر کسی مہینے کی 13 تاریخ اور جمعہ کا دن ایک ساتھ آئیں تو وہ مہینہ، وہ دن اور تاریخ منحوس خیال تصور کیے جائیں گے۔
گذشتہ جمعہ کو نومبر کی 13 تاریخ تھی اور اہل مغرب کے ہاں اس دن کو مںحوس سمجھا گیا تھا۔ اسی دن اور تاریخ میں فرانس میں دہشت گردی کی خوفناک واردات وقوع پذیر ہوئی جس میں 128 فراد ہلاک اور 360 زخمی ہوئے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت میں جمعہ کا دن اور 13 تاریخ ایک ساتھ آئے تو فرانس میں قیامت برپا ہو گئی۔
دنیا بھر میں 13 تاریخ بروز جمعہ کو منحوس سمجھنے والے لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو مادی اعتبار سے دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بستے ہیں۔ "13 تاریخ اور جمعہ" ایک ساتھ آئیں تو کیوں کر مںحوس تصور ہوں گے؟ اس مفروضے کی اصل کیا ہے اور یہ کہاں سے شروع ہوا۔ کن لوگوں نے اس میں کمی بیشی کی؟ اس کے حوالے سے جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق لاکھوں مفروضے اور تصورات موجود ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا تصور عرب دنیا سے ابھرا۔ کچھ لوگ صرف "13" کے عدد کو منحوس تصور کرتے ہیں۔ وہ جمعہ کی قید نہیں لگاتے۔
امریکا میں انیسویں صدی میں "سمندری بیمہ" کی ایک کمپنی "لویڈز" نے فیصلہ کیا کہ اس کے جہاز ہر مہینے کی اس 13 تاریخ کو بحری سفر نہیں کریں گے جس میں جمعہ بھی آ رہا ہو۔ یہ کمپنی آج بھی اپنے اس اصول پر قائم ودائم ہے۔ امریکا میں سمندری سفر کے لیے آج بھی یہی اصول کار فرما ہے۔ جرمنی میں 13 اگست بروز جمعہ 1961ء کو دیوار برلن تعمیر کی گئی جس نے جرمنی کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ یوں جرمنی میں بھی اس دن اور تاریخ کو ایک ساتھ آنے پر منحوس خیال کیا جانے لگا۔ دیوار برلن 28 سال تک 29 نومبر 1989ء تک جرمنی کے درمیان حائل رہی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے "جمعہ 13" تاریخ کی نحوست کی تاریخی حقائق کی چھان پھٹک سے یہ امر مترشح ہوا کہ اس کا آغاز شام اور عراق میں اریانی اور سریانی دور میں ہوا۔ عیسائی مذہبی اعتبار سے اتوار کو اہمیت دیتے اور بابرکت دن تصور کرتے۔ صدیوں قبل اہل کلیسا اتوار کو دنیاوی کام کاج کو اللہ کی ناراضی قرار دیتے تھے اور لوگوں کو اس دن صرف عبادت وریاضت کی طرف متوجہ کرتے۔ جو شخص اس دن دنیاوی کام کاج کرتا تو اسے اللہ کی سخت پکڑ کی وعید سناتے۔
ان کا خیال تھا کہ اگر کسی مہینے کا آغاز اتوار کے دن سے ہو رہا ہے تو وہ مہینا نحوست کا پیغام لائے گا کیونکہ لا محالہ اس کی 13 تاریخ کو جمعہ ہو گا۔
یہی تصور آج بھی جنوبی اور شمالی امریکا اور کینیڈا میں موجود ہے۔ برازیل کے لوگ کسی مکان، ہوٹل یا کسی بھی دوسری عمارت کا نمبر 13 نہیں رکھتے اور نہ ہی ان میں 13 عدد کی کوئی منزل ہوتی ہے۔ یہ تاریخ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے منحوس خیال کی جاتی ہے۔
اقوام عالم میں جہاں 13 کا عدد انسان کے لیے نحوست اور برائی کا موجب خیال کیا جاتا ہے وہیں 12 کا عدد باعث خیر وبرکت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مغرب کے ہاں آج اور دور قدیم سے 12 کے عدد کو برکت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
پرانے آسمانی مذاہب میں مشہور ہے کہ اسرائیل [حضرت یعقوب] کی اولاد 12 قبیلوں میں تقسیم ہوئی۔ خوش بختی کا عدد 12 ہے۔ سال کے 12 مہینے ہیں۔ دیگر کوئی ایسے مفروضے مشہور ہیں جن میں 12 کے عدد کو اہمیت دی جاتی ہے۔ سریانی میں "الف"، "ح" اور "دال" کے حروف کو مںحوس سمجھا جاتا ہے۔ الف زبان میں عدد نمبر 1، ح عدد 8 اور دال عدد 4 کے لیے استعمال ہوتی ہے اور تینوں کا مجموعہ 13 بنتا ہے۔
قدیم رومن مذہبی تعلیمات کے مطابق ساحروں کا گروپ 12 افراد پر مشتمل تھا۔ سکنڈے نیونئین ملکوں میں مشہور ہے کہ پھانسی کی رسی کو 13 گانٹھیں دی جاتی ہیں۔ ویکیپیڈیا کے مطابق "اپولو" خلائی گاڑی سنہ 1970ء کو اس لیے تباہ ہوئی کیوں کہ وہ چاند کے سفر کے لیے 13 تاریخ، 13 بج کر 13 منٹ پر خلاء میں روانہ کی گئی تھی۔ بعد ازاں مذہبی کاہنوں نے 13 اپریل کو خلاء کے سفر سے منع کر دیا تھا۔
امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں لاتعداد فلک بوس عمارتیں موجود ہیں مگر ان میں کہیں بھی 13 نمبر منزل نہیں۔ 12A کے بعد 14 نمبر منزل شروع ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سنہ 1980ء میں Friday the 13th عنوان سے امریکا میں ایک فلم ریلیز کی گئی تھی جس نے ریکارڈ بزنس کیا اور کئی ملین ڈالر کمائے۔ اس فلم میں امریکی اداکار جانسن راگبٹ نے ہیرو کا کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ اڈرین کینگ، اسکاٹ ریفز بھی اس فلم میں موجود تھے۔ انہیں اس فلم کے بری طرح پٹ جانے کا ڈر تھا کیونکہ ان کے خیال میں یہ فلم ایک مںحوس عدد کے حوالے سے تیار کی گئی تھی۔