.

ایرانی جامعات تک امریکی سی آئی اے کی رسائی ممکن؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سکریٹری اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر #محسن_رضائی کا کہنا ہے "ایران میں رسائی کے منصوبوں کے ذمہ دار امریکی انٹیلی جنس ایجنسی 'سی آئی اے' کے ایجنٹ نے ملک میں رسوخ کے مقصد سے تمام ایرانی جامعات کا دورہ کیا۔"

"فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق رضائی نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی اس ایجنٹ کی شناخت کے بارے میں دستاویزات کا انکشاف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "ملک میں امریکی رسائی اور رسوخ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔"

ایجنسی کے مطابق رضائی نے "امام حسين" ملٹری یونی ورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے رضائی نے بعض عناصر کو دشمن قرار دیتے ہوئے ان پر 26 فروری کو ہونے والے انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "دشمن نے حالیہ انتخابات کے دوران ہمارے خلاف نرم جنگ کی چال چلی۔ وہ وسیع سائبر اختیارات کے ذریعے میدان میں داخل ہوا۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ "تہران میں اس نرم جنگ کے نتائج کا مشاہدہ دیگر صوبوں سے زیادہ کیا جاسکتا ہے، اس کی وجہ دیگر مقامات کے مقابلے میں یہاں زیادہ بڑے سائبر انفراسٹرکچر کی موجودگی ہے جس کا دشمن نے فائدہ اٹھایا۔"

محسن رضائی نے نیوکلیئر معاہدے کے بعد ملک میں دشمنانہ رسائی کے موضوع پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ "سی آئی اے کا ایک ایجنٹ جس کو ایران میں رسائی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس نے گزشتہ جون میں ایران کا دورہ کیا اور تمام ایرانی جامعات جا کر وہاں کی معلومات حاصل کیں، ہم مستقبل میں اس معاملے کا دستاویزات کے ساتھ انکشاف کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ وہ ہی شخص ہے جو سابق سوویت یونین میں فضا سازگار ہونے کے بعد روس گیا، کیوبا میں فضا سازگار ہونے کے بعد وہاں کا دورہ کیا اور نیوکلیئر معاہدے کے بعد ایران کا بھی دورہ کیا۔"

تجزیہ کاروں نے محسن رضائی کے بیانات کو پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر شدت پسندوں کے عدم اطمینان سے جوڑا ہے، جس کے پہلے مرحلے میں اصلاح پسندوں کو برتری حاصل ہے۔

شدت پسندوں کی جانب سے "انتخابات کو انجینئرڈ" بنانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں جس کی وجہ سے ان کو اصلاح پسندوں کی طاقت ور آواز کی حامل پارلیمنٹ کی تشکیل کا اندیشہ بڑھ گیا ہے جو روحانی کی "معتدل" حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں اقتدار میں پاسداران انقلاب اور دائیں بازو کے دھڑوں کے رسوخ میں لامحالہ کمی واقع ہوگی۔