.

وہائٹ ہاؤس میں ملازمت کی خواہاں مصری نژاد مسلمان!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس میں ٹکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لیلی الجوہری امریکا میں پیدا ہوئیں مگر انہوں نے سعودی عرب اور بحرین میں پرورش پائی۔ وہ مصری لہجے میں عربی بولتی ہیں۔ لیلی نے کچھ عرصے قاہرہ میں بھی قیام کیا مگر پھر اس یقین کے ساتھ امریکا واپس لوٹ گئیں کہ انہیں وہاں معاشرے کی خدمت میں شریک ہونے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک وہائٹ ہاؤس میں کام کرنے کا تعلق ہے تو لیلی بچپن ہی سے اس کا خواب دیکھا کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‫"میری یہ خواہش نہیں تھی کہ میں صدر یا وزیر بنوں بلکہ وہائٹ ہاؤس کی اہل کار بننا چاہتی تھی.. یہاں تک کہ اگر میں صفائی کرنے والی ورکر ہوتی تب بھی ایک بنیادی وجہ سے یہاں کام کرنا قبول کرلیتی.. اور وہ وجہ یہ تھی کہ میں تاریخ کو دیکھوں کہ وہ میرے سامنے لکھی جارہی ہے یا میں اس کا حصہ بنوں.. خواہ میری شرکت انتہائی بنیادی سطح پر ہی ہوتی یا میں محض کسی ایک شخص کی ہی مدد کرلیتی تو میرے لیے اتنا ہی کافی تھا"۔

ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار (ڈونلڈ ٹرمپ) کے بیان کی روشنی میں مسلمانوں کے خلاف عداوت سے بھری فضا لیلی کے لیے باعث تشویش ہے۔ اگرچہ وہ جانتی ہیں کہ یہ انتخابی مقاصد کے لیے دیا گیا ایک سیاسی بیان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‫"سب ہی لوگ امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں"۔

لیلی کے مطابق وہ اوباما انتظامیہ میں کام کرنے کے حوالے سے انتہائی پرجوش اور جذباتی تھیں۔ یہاں تک کہ لیلی کے گھر والوں نے انہیں اس وقت پاگل قرار دیا جب وہ 2012 میں صدر اوباما کے دوبارہ صدر بن جانے کے واسطے ان کی انتخابی مہم میں بطور رضاکار کام کرنے کے لیے اپنی تعلقات عامہ کی کمپنی کی ملازمت سے مستعفی ہوگئیں جب کہ یہ نوکری انتہائی پرکشش آمدن رکھتی تھی۔

بعد ازاں انہیں صدارتی اہل کاروں سے متعلق "L E T" آفس میں مستقل ملازمت مل گئی۔ وہائٹ ہاؤس پہنچ جانے کے بعد بھی لیلی کو اس ملازمت کے حصول کا یقین نہیں آتا۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ملازمت کے لیے ان کے وہائٹ ہاؤس پہنچنے کے امکانات کو معدوم قرار دیتے تھے.. بالخصوص 11 ستمبر کے حملوں کے بعد کہ ان حملوں نے مسلم کمیونٹی اور مسلمانوں کے بارے میں امریکیوں کے عمومی ویژن کو تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔

تاہم کیا لیلی مشرق وسطیٰ میں صدر اوباما کی پالیسیوں کو ناکام تصور کرتی ہیں بالخصوص شام میں جس کے حوالے سے امریکی انتظامیہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ شامی بحران کو ختم کرنے اور خون ریزی کو روکنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

لیلی کا کہنا ہے کہ وہ صدر اوباما پر پورا اعتماد رکھتی ہیں کہ وہ امریکی عوام کے لیے سب سے بہتر کام کریں گے.. اور صدر کی جانب سے کیے جانے والے ہر فیصلے کو تو سب کی تائید حاصل نہیں ہوسکتی۔

لیلی کو اپنے وہائٹ ہاؤس میں کام کرنے پر فخر ہے.. لیلی کے خیال میں ان کا خواب شرمندہ تعبیر تو ہوچکا ہے مگر مکمل طور پر نہیں.. اگرچہ وہ جس عمارت میں کام کرتی ہیں وہاں ہزاروں ملازمین ہوتے ہیں تاہم لیلی صدر اوباما کو دور سے ہی دیکھ پاتی ہیں.. ابھی تک ان کی اوباما سے بالمشافہ ملاقات یا گفتگو نہیں ہوئی ہے۔