امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس اعلان کے بعد کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے تفتیش کاروں کو واپس آنے کی اجازت دے دی ہے... ایرانی وزارت خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج منگل کو پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم تنازع میں نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے جوہری ایجنسی کے تفتیش کاروں کو اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ محمد باقر قالیباف کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ جانے والے ایرانی وفد کی اے آئی ای اے کے سربراہ رافائیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت باہمی احترام اور حقیقت پسندی پر مبنی ہے... اور کوئی بھی متکبرانہ گفتگو معاہدے کی راہ کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرنے والے فریق جوہری معاملے پر مذاکرات شروع کرنے سے پہلے اس کے تمام نکات پر عمل درآمد کے خواہاں ہیں۔
بیرون ملک منجمد ایرانی رقوم کے بارے میں جن میں سے 1.2 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا معاہدہ ہوا ہے، بقائی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے منجمد اثاثوں کو استعمال کرنے میں آزاد ہیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ روئٹرز کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتیں کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات کا موضوع نہیں ہوں گی۔
لبنان کے حوالے سے ترجمان نے وضاحت کی کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت کے دوران ایران، قطر، پاکستان، امریکہ اور لبنان کی شرکت کے ساتھ لبنان میں کشیدگی کو روکنے کے لیے ایک میکانزم پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میکانزم لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے بھی ہے اور لبنان پر حملوں کا خاتمہ مفاہمت کی یاد داشت کا لازمی حصہ ہے۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں ایران کے مستقل مندوب نے تصدیق کی کہ تفتیش کاروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے... اور جوہری سرگرمیوں پر بحث مذاکرات کے اگلے مرحلے میں ہو گی۔
یہ بیان امریکی نائب صدروینس کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران نے تفتیش کاروں کو دعوت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تہران نے واضح کیا کہ معائنہ صرف ان جوہری تنصیبات تک محدود ہے جو 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران حملوں سے محفوظ رہی تھیں، جیسا کہ اپریل میں اسلام آباد مذاکرات میں طے پایا تھا۔