کلے کے ہاتھ پر 20 لاکھ امریکیوں نے اسلام قبول کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

باکسنگ کی دنیا کے سابق لیجنڈ محمد علی کلے نے کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ان کی زندگی کے پُر مسرت ترین لمحات وہ تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور ایمان کی حلاوت کو چکھا۔ ان کا اس ایمانی لذت تک پہنچنے کا سفر کیسا رہا ؟

انسان دوست شخصیت قرار دیے جانے والے محمد علی کی زندگی میں یوں تو کئی شگون سامنے آئے تاہم زندگی کا فیصلہ کن موڑ 1964 میں آیا جب وہ شہرت کی بلندیوں پر تھے اور اسی سال انہوں نے پہلی مرتبہ عالمی چیمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور ساتھ ہی اسلام قبول کرنے کا اعلان بھی کر ڈالا۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ محمد علی شاہ کے تخت سے اتر کر دین اسلام کی دعوت کے خادم بن گئے۔ ان کے دونوں آہنی پنجے غریبوں اور ناداروں پر ہمدردی کے پھول برسانے والے محبت بھرے ہاتھوں میں تبدیل ہوگئے۔

اس طرح "کیسیئس مارسیلس کلے" نے اپنے ماضی کو خیرباد کہہ کر "محمد علی کلے" کے نام سے زندگی کے نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ ایک ایسا مسلمان جو اپنے دین کے راستے میں ہر ممکن کوشش اور مال خرچ کرنے کے لیے تیار تھا۔

ان کے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے محمد طماشی اپنی کتاب "عظیم شخصیات اور مفکرین کا قبول اسلام" میں محمد علی کی زبانی لکھتے ہیں کہ " 1964 میں ریاست فلوریڈا میں پہلی مرتبہ میں نے یہ سنا کہ اللہ ایک ہے جس کے سنتے ہی میں ہل گیا اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں عیسی علیہ السلام اللہ کے انبیاء میں سے ایک ہیں۔ قرآن وحی کا مکمل مجموعہ ہے جس کی خود حفاظت کی گئی۔ یہ سب میرے لیے نیا تھا اور اس نے مجھ پر زبردست اثر ڈالا۔ اسلام لانے کے بعد میں انسانی سلامتی اور حقیقت کو پایا۔ میں نے نماز، روزہ، اللہ سے تعلق کو سیکھا اور پھر مصر ہوگیا کہ میں لوگوں کو اللہ کے دین حنیف یعنی اسلام کی طرف دعوت دوں۔ اللہ کے فضل سے میرے ہاتھ پر 20 لاکھ سے زیادہ امریکیوں نے اسلام قبول کیا۔ میں نے اپنی سالانہ آمدنی (جو کہ 20 کروڑ ڈالر کے قریب( اسلام کے لیے مختص کر دی۔ میری بیوی اور اولاد کا اس کی وراثت میں کوئی حق نہیں۔ میں نے اپنے محل کو ایک جامع مسجد اور قرآن کریم کی تعلیم کے مرکز میں تبدیل کردیا۔ اس کے علاوہ میں نے شکاگو میں سب سے بڑی مسجد کی تعمیر شروع کی اور یہ مسجد ایک اسلامی مرکز ہوگا۔ ان دنوں میں اسلامی کتب خرید کر امریکا میں مسلمانوں میں مفت تقسیم کر رہا ہوں"۔

امریکی دانش ور میلکم ایکس کی شخصیت کے محمد علی کلے کی سوچ پر گہرے اثرات تھے اور وہ ان کے قریبی دوست بھی تھے۔ اسی طرح "نیشن آف اسلام" تنظیم کے سربراہ الائجا محمد نے باکسنگ کی دنیا کے اس ہیرو کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد علی نے اسلام کی بنیادی تعلیم الائجا سے حاصل کی۔ وہ ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں ان کے دینی لیکچروں میں شرکت کرتے تھے۔

اگرچہ محمد علی کے اسلام کا آغاز نیشن آف اسلام تنظیم کے ساتھ ہوا تاہم یہ زیادہ عرصے جاری نہ رہا۔ محمد علی نے تنظیم کے بہت سے نظریات سے اختلاف کیا اور ساتھ ہی اپنے فلاحی اور دینی دعوت کے کام کو جاری رکھا۔ انہوں نے مغربی دنیا کے ذہن میں راسخ ہوجانے والی اسلام اور مسلمانوں کی غلط تصویر کو ٹھیک کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ اس دوران 1972 میں اس لیجنڈ نے فریضہ حج ادا کیا۔

محمد علی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "جلد ہی میں بڑی عمر کا آدمی ہو جاؤں گا اور کسی بھی وقت مجھے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اللہ رب العزت نے مجھے دنیا کا بہترین کھلاڑی اور مشہور ترین انسان بنایا لہذا میں اس غیرمعمولی مقبولیت کو جس سے اللہ نے مجھے نوازا ہے، اسلام کی تعلیمات کو ہر جگہ پھیلانے کے لیے استعمال کروں گا اور اسی طرح جرائم، شراب نوشی، منشیات اور عصمت فروشی سے لڑنے کے لیے استعمال میں لاؤں گا"۔

محمد علی عالمی سیاسی شخصیات سے اپنی ملاقاتوں کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ اس بات کو کبھی نہیں بھلا سکیں گے کہ سوویت صدر میخائیل گورباچوف نے جب وہائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تو انہوں نے محمد علی سے ملاقات کی درخواست کی جہاں وہ خود ان کا استقبال کرنے والوں میں سے تھے۔ جب دنوں شخصیات ملیں تو محمد علی نے سوویت صدر کو قرآن کریم کا تحفہ دیا اور ان پر اسلام لانے کے لیے زور دیا۔

دہشت گردی ، انتہا پسندی اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں ایک موقع پر محمد علی کا کہنا تھا کہ " میں ایک مسلمان ہوں اور اسلام میں پیرس یا دنیا کے کسی بھی اور مقام پر بے قصور لوگوں کے قتل کی کوئی گنجائش نہیں۔ حقیقی مسلمان جانتے ہیں کہ وحشیانہ تشدد ہمارے دین کے بنیادی اصولوں کے مخالف ہے"۔

عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی کلے جمعے کی شب امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس کے ایک ہسپتال میں سانس کی تکلیف کے باعث انتقال کر گئے۔ انہیں 1984 سے پارکسنز کا مرض بھی لاحق تھا۔ تین مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن شپ جیتنے والے ہیرو کے اہل خانہ کے مطابق محمد علی کی تدفین ان کی آبائی ریاست کینٹکی کے شہر لوئس ول میں ہوگی جہاں کلے نے 74 سال قبل آنکھ کھولی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں