مقبوضہ مغربی کنارا: حماس کے 71 سالہ شریک بانی حسن یوسف اڑھائی سال بعد رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کے شریک بانی حسن یوسف کے بیٹے نے اطلاع دی ہے کہ ان کے والد کو اسرائیل نے رہائی دے دی ہے۔ رہائی جمعرات کے روز کی گئی ہے۔ 71 سالہ حسن یوسف کو بغیر کسی مقدمے اور الزام کے اسرائیلی حکام نے لگ بھگ اڑھائی سال جیل میں بند رکھا۔

البتہ جمعرات کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون سے رہا کر دیا گیا ، وہ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین شہید کے ساتھ مل کر حماس کی بنیاد رکھنے والے بعض دیگر اخوان رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ رہائی کے بعد انہیں رام اللہ کے ہسپتال میں لایا گیا ہے۔ جہاں ان کے بیٹے اویس یوسف نے ان کی رہائی کی اطلاع دی ہے۔ تاہم ابھی اسرائیلی پولیس نے اس بارے میں خبر رساں ادارے کے کسی سوال کا جواب دینے یا رہائی کی تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے۔

حماس کے شریک بانی رہنما کو انتہائی پیرانہ سال ہونے کے باوجود اسرائیل نے ایک ایسے کالے قانون کے تحت حراست میں لے رکھا تھا جس کے تحت اسرائیلی حکومت جس بھی فلسطینی کو چاہے چھ ماہ کے لیے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے پکڑ سکتی ہے اور بعد ازاں چھ ماہ کے لیے حراستی مدت میں توسیع کرتی رہتی ہے۔

اسرائیلی حکام نے حسن یوسف کو غزہ میں اسرائیلی جنگ کے شروع کے دنوں میں ہی گرفتار کر لیا تھا۔ انہیں اس سے قبل بھی بار ہا اسرائیل گرفتار کر چکا ہے۔ اس سے قبل 2020 میں بھی انہیں اسرائیلی جیل سے رہائی ملی تھی۔

حسن یوسف اب فلسطینی غیر فعال اسمبلی کے منتخب رکن ہیں۔ وہ دس سال پہلے اپنے بیٹے مصعب یوسف سے الگ ہو گئے تھے، ان کے بیٹے نے 1997 سے 2007 کے درمیان امریکہ میں منتقلی کر لی اور اسرائیلی اندرونی سلامتی نے اسے حماس کی جاسوسی کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس وجہ سے حسن یوسف نے اپنے بیٹے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں