روس میں دریا کا رنگ خونی ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روس میں وزارت ماحولیات نے اعلان کیا ہے کہ شمالی شہر نوریلسک کے قریب بہنے والے دریائے ڈالڈیکان کا پانی سُرخ رنگ میں تبدیل ہوجانے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کا سبب کوئی صنعتی حادثہ ہوسکتا ہے۔

وزارت نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ اسے مذکورہ علاقے کی آبادی کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئیں کہ "دریائے ڈالڈیکان کا پانی کسی کیمیائی مواد سے آلودہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں پانی کا رنگ سرخ ہوگیا ہے"۔

وزارت ماحولیات کا مزید کہنا ہے کہ "ابتدائی معلومات کے مطابق غالب گمان ہے کہ آلودگی کی وجہ نوریلسک میں ایک نیکل پلانٹ کی پائپ لائنیں پھٹنا ہے"۔ شمالی سائبیریا میں واقع اس شہر کی آبادی 1 لاکھ 70 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

مقامی ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری تصاویر میں جنگلوں کے بیچ سے گزرتے اس دریا کا سرخ رنگ کا پانی نظر آرہا ہے۔

دنیا میں نیکل کی سب سے بڑی کمپنی "نوريلسک نيکل" میں ذمہ داران کا کہنا ہے کہ انہوں نے تصاویر دیکھی ہیں تاہم انہوں نے کمپنی کی تنصیبات میں کسی بھی قسم کے رساؤ کی تردید کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں