روس میں دریا کا رنگ خونی ہو گیا
روس میں وزارت ماحولیات نے اعلان کیا ہے کہ شمالی شہر نوریلسک کے قریب بہنے والے دریائے ڈالڈیکان کا پانی سُرخ رنگ میں تبدیل ہوجانے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کا سبب کوئی صنعتی حادثہ ہوسکتا ہے۔
وزارت نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ اسے مذکورہ علاقے کی آبادی کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئیں کہ "دریائے ڈالڈیکان کا پانی کسی کیمیائی مواد سے آلودہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں پانی کا رنگ سرخ ہوگیا ہے"۔
وزارت ماحولیات کا مزید کہنا ہے کہ "ابتدائی معلومات کے مطابق غالب گمان ہے کہ آلودگی کی وجہ نوریلسک میں ایک نیکل پلانٹ کی پائپ لائنیں پھٹنا ہے"۔ شمالی سائبیریا میں واقع اس شہر کی آبادی 1 لاکھ 70 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
مقامی ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری تصاویر میں جنگلوں کے بیچ سے گزرتے اس دریا کا سرخ رنگ کا پانی نظر آرہا ہے۔
دنیا میں نیکل کی سب سے بڑی کمپنی "نوريلسک نيکل" میں ذمہ داران کا کہنا ہے کہ انہوں نے تصاویر دیکھی ہیں تاہم انہوں نے کمپنی کی تنصیبات میں کسی بھی قسم کے رساؤ کی تردید کی۔
-
فرانس: محبت کے یاد گار 45 ٹن تالے پل سے اتارنے کا فیصلہ
تالوں کے بوجھ سے پل کا ایک حصہ دریا برد ہوچکا ہے
بين الاقوامى -
دریا کا پانی روکنے کے خلاف اہواز میں انسانی ہاتھوں کی طویل زنجیر
عرب اکثریتی صوبے میں دریائے کارون واحد ذریعہ آب پاشی ہے
بين الاقوامى -
نیپال بھونچال: مہلوکین کو 'چتا' دینے کے لیے لکڑی کم یاب
قبرستان سے محروم ملک کے مقدس دریا باگمتی کے کنارے لاشوں سے اٹ گئے
ایڈیٹر کی پسند