اسرائیل نے جیل کی حفاظت کے لیے مگرمچھوں کے استعمال کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے وزیر برائے ماحولیاتی تحفظ ایڈیٹ سلمین نے مگرمچھوں کو جنگلی جانوروں کی فہرست سے نکال کر "قیدی نسل کی جنگلی حیات" میں دوبارہ شامل کر دیا ہے۔ اس اقدام سے رینگنے والے جانوروں کو حفاظتی مقاصد بشمول جیل سے قیدیوں کا فرار روکنے کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔

انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر دسمبر میں فلسطینی قیدیوں کے ایک حراستی مرکز کے اردگرد مگرمچھ چھوڑ دینے کی تجویز پیش کی تھی۔

"کیا آپ فرار ہونے کی کوشش کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ دوبارہ سوچیں،" بین گویر نے جمعرات کو ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا جس میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اپنی ایک تصویر میں وہ پٹے سے بندھے ہوئے مگرمچھ کے ساتھ ہیں۔

کیپشن میں لکھا ہے: "وزراء بین گویر اور سِلمین تعاون کرتے ہوئے جیلوں کو مگرمچھوں سے گھیر رہے ہیں!"

اسرائیل کے چینل 13 نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی نے بین گویر کی تجویز کی مخالفت کی تھی جب انہوں نے گذشتہ سال پہلی بار یہ خیال پیش کیا تھا۔ وہ اسرائیل کی جیل سروس چلاتے ہیں۔

بدھ کے روز مذکورہ قانون میں کہا گیا کہ دریائے نیل کے مگرمچھوں کی افزائش کی جا سکتی ہے بشرطیکہ "ان کو حفاظتی ادارے کے پاس ڈائریکٹر (نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی) کی طے کردہ شرائط کے تحت رکھا جائے تاکہ ان کا جنگل میں چھوڑنا روکا جا سکے اور وزیر برائے ماحولیاتی تحفظ اس بات کا تعین کریں کہ ان کا قبضہ حفاظتی مقاصد کے لیے ضروری ہے۔"

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ بین گویر جنوبی اسرائیل میں کیٹزیوٹ جیل کے ارد گرد مگرمچھ تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد حماس کے گرفتار کردہ کئی مزاحمت کار یہاں قید ہیں۔

چینل 13 نے کہا کہ بین گویر نے گذشتہ سال جب یہ تجویز پیش کی تھی تو ابتدائی طور پر اسرائیل جیل سروس میں "متعدد افسران نے اسے طنز کا نشانہ بنایا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size