.

سعودی لڑکی نے عالمی کمپنیوں کو اسلامی ایموجی پر کیسے قائل کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے شہر برلن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سکونت پذیر 15 سالہ ريوف بنت عبدالرحمن الحميضی برطانوی اسکول میں دسویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ریوف کے والد برلن میں کام کرتے ہیں۔ ریوف اپنا زیادہ وقت کاغذی اور برقی کتابوں کے مطالعے اور ویب سائٹس بنانے پر توجہ دینے میں گزارتی ہیں۔

ریوف الحمیضی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایپلی کیشنز میں سعودی ایموجی کے اضافے کا خیال واٹس ایپ پر ان کی اسکول کی سہیلیوں کے گروپ کے ذریعے آیا۔ گروپ میں ہر سہیلی نے اپنی نمائندگی کرنے والے ایموجی کا انتخاب کیا تاہم ریوف کو کوئی ایموجی نہیں ملا جو حجاب میں ان کی نمائندگی کرتا بالخصوص جب کہ وہ خود حجاب پہنتی ہیں۔

ریوف نے واضح کیا کہ اس چیز نے انہیں ایپل کمپنی کو لکھنے پر مجبور کیا کہ حجاب کے ایموجی کو بھی شامل کیا جائے تاہم کمپنی کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

ریوف نے امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور تقریبا ایک ماہ قبل اسنیپ شاٹ پر ایک چینل میں انہوں نے امریکی کمپنی یونی کوڈ کنسورشیئم کو ایموجی کا آئیڈیا پیش کرنے کا مکمل طریقہ کار دیکھ لیا۔ ریوف نے امریکی کمپنی کے سامنے اپنی مکمل اور مربوط پیش کش کو رکھا جس کو کمپنی کی پسندیدگی حاصل ہوئی اور اس نے پیش کش کو قبول کر لیا۔ ریوف نے واضح کیا کہ یونی کوڈ کنسورشیئم کمپنی میں ٹکنالوجی کمیٹی کے ساتھ ان کی بات چیت چل رہی ہے اور حجاب کے ایموجی کو شامل کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کمپنی کی نومبر میں سان فرانسسکو میں ہونے والی کانفرنس میں کیا جائے گا۔

ریوف الحميضی کے مطابق " دنیا بھر میں بہت سے لوگوں نے اس خیال کو متنازع بنانے کی کوشش کی اس کے بعد ایموجی کے حوالے سے نمائش اور کانفرنس کی منتظم جنیفر لی نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے ان کو آگاہ کیا کہ عالمی ذرائع ابلاغ مجھ سے رابطے کے خواہش مند ہیں تاکہ میں حجاب کے ایموجی کے بارے میں اپنا آئیڈیا پیش کروں"۔

ریوف الحمیضی CNN ، BBC اور واشنگٹن پوسٹ پر نمودار ہو کر اپنے اس خیال ، اس کی پیش کش اور مقصد پر تفصیلی روشنی ڈال چکی ہیں۔

ریوف کو توقع ہے کہ نومبر میں ایموجی کانفرنس کے اختتام کے بعد حجاب کا ایموجی ایپلی کیشنز میں موجود ہوگا۔