.

غزہ میں ایک دھڑ، دو سَروں والی بچی کی پیدائش ،ڈاکٹر مشکل سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں دو سروں اور ایک دھڑ والی بچی کی پیدائش ہوئی ہے۔اس بچی کا دل ایک ہے اور باقی اعضا بھی دو ،دو ہیں۔اب فلسطینی سرجن اس کی جان بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔

غزہ شہر میں واقع سب سے بڑے اسپتال الشفاء میں بچوں کے ماہر ایک ڈاکٹر حنان الوادی نے کہا ہے کہ ''پہلے ہمارا یہ خیال تھا کہ یہ جڑواں بچے ہیں اور ہمیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا لیکن پیدائش کے بعد پتا چلا ہے کہ بچی کا دھڑ تو ایک ہے لیکن اس کے سَر دو ہیں۔

دو سَروں والی اس بچی کی پیدائش منگل کے روز سرجری کے نتیجے میں ہوئی تھی اور اس کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ڈاکٹروں کی کڑی نگرانی میں رکھا جا رہا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی اس کے دونوں میں سے ایک سر کو الگ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انھیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ غزہ ہی میں اس بچی کا آپریشن کرسکتے ہیں یا اس کو سرجری کے لیے اسرائیل یا کسی اور جگہ منتقل کرنا پڑے گا۔

ڈاکٹر وادی نے بتایا ہے کہ بچی کے سروں کو الگ کرنا بہت ہی مشکل ہوگا کیونکہ ان کے بہت سے اعضاء مشترک ہیں اور وہ ایک ہی دل سے جڑے ہوئے ہیں جو خود متاثرہ ہے۔

رائٹرز ٹیلی ویژن نے اس بچی کی تصاویر نشر کی ہیں۔ان میں دونوں سر گردن کے ذرا سے نیچے دھڑ سے جڑے ہوئے ہیں اور بچی کو انکیوبیٹر میں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ بچی کی چھاتی تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھی کیونکہ دل خون کو دونوں سروں اور باقی جسم تک پہنچانے کے لیے پمپ کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ہر دو لاکھ بچوں میں سے ایک باہم جڑے ہوئے جڑواں بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ڈاکٹروں کے مطابق ایسے بچے کے زندہ بچ جانے کی شرح پانچ اور پچیس فی صد کے درمیان ہوتی ہے۔ایسے جڑے ہوئے جڑواں نوزائیدوں میں قریباً ستر فی صد بچیاں ہوتی ہیں۔