حضرت ابراہیم اور یوسف علیہما السلام کے مصر میں داخل ہونے کا مقام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

الفرما.. مصر کے صوبے سیناء کے شمال میں واقع علاقہ ہے۔ یہ وہ ہی مقام ہے جہاں سے اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام اور اُن کے بھائی اور صحابیِ رسول حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مصر میں داخل ہوئے تھے۔

سیناء میں آثار قدیمہ کے معروف ماہر ڈاکٹر عبدالرحيم ريحان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سیناء کے شمال میں واقع "الفرما" وہ ہی شہر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے.. جب اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مصر میں ایک دروازے سے نہیں بلکہ مختلف مقامات سے داخل ہوں۔ اللہ تعالی کی مشیت سے وہ مصر میں محفوظ طور پر داخل ہوئے۔ یہ وہ ہی شہر ہے جس کو حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف علیہما السلام نے مصر آتے ہوئے عبور کیا تھا۔ اس کے علاوہ بی بی مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسی علیہما السلام بھی فلسطین سے مصر آنے کے سفر کے دوران اس شہر سے گزرے تھے۔

ڈاکٹر ریحان کے مطابق "الفرما" مصر کے شہر "القنطرہ شرق" سے 35 کلومیٹر مشرق میں بحیرہ روم کے ساحل پر بلوظہ گاؤں کے نزدیک واقع ہے۔ انگریزی زبان میں اس شہر کا نام Pelusium اور قِبطی زبان میںPeremoun ہے۔ قرون وسطی میں اس کو الفرما کا نام دیا گیا۔

ڈاکٹر ریحان نے مزید بتایا کہ الفرما کے شمرق میں معروف رومی سپہ سالار پامپے کی قبر واقع تھی جس نے مصر کے شہر اسکندریہ میں معروف پامپے ستون تعمیر کرایا۔ یہ معروف یونانی ماہرِ فلکیات ریاضی داں بطلیموس کا بھی وطن تھا۔ الفرما قلعہ بند شہر کی حیثیت رکھتا تھا۔ رومی دور اور مسلمانوں کے ہاتھوں مصر کی فتح کے زمانے میں ہونے والی جنگوں میں ہمیشہ اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ریحان کے مطابق علاقے کی وسعت اس شہر کی عظمت اور اہمیت کا پتہ دیتی ہے۔ یہ مشرقی سمت سے مصر کی کنجی کی حیثیت رکھتا تھا۔ شہر کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی قدیم ثقافت کا حامل رہا اور اس کے اصل باشندے درحقیقت ایک قدیم سامی تہذیب "فونیقی" سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر تھے۔

ڈاکٹر ریحان نے مزید بتایا کہ صحابیِ رسول حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ 19 ہجری (640ء) میں مصر کو فتح کرنے کے لیے گئے تو پہلے العریش میں ٹھہرے اور پھر الفرما آئے۔ عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ نے اس شہر کے ساتھ ہی سمندر کے کنارے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ تعمیر کی نگرانی 239 ہجری (853ء) میں مصر کے گورنر عنبسہ بن اسحق نے کی۔

آثار قدیمہ کے مصری ماہر کے مطابق الفرما میں متعدد رومی ، مسیحی اور اسلامی آثاریاتی مقامات ہیں۔

الفرما پہلی سے ساتویں صدی عیسوی تک مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا اہم مرکز رہا۔ یہاں اہم بندرگاہ اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے واسطے عسکری چیک پوائنٹس اور بعض کسٹم کی چنگیاں بھی تھیں۔ یہاں مختلف صنعتیں بھی قائم تھیں جن میں کپڑوں کی بُنائی ، شیشہ سازی ، بحری جہاز سازی ، مچھلیوں کا شکار اور ان کی حفاظت شامل ہے۔

یہ فلسطین ، شمالی افریقہ ، قبرص ، یونان ، اٹلی کے ساتھ تجارت کے لیے نمایاں تجارتی مراکز رکھتا تھا۔

ڈاکٹر ریحان کا مطالبہ ہے کہ الفرما کے علاقے کو آثاریاتی مقام ہونے کی بنیاد پر ثقافتی اور مذہبی سیاحت کے لیے آنے والوں کے واسطے تیار کیا جائے۔ یہاں سیاحتی خدمات فراہم کی جائیں اور الفرما کے آثاریاتی مقامات میں داخلے کو آسان بنانے کے لیے یہاں اچھی شاہ راہیں تعمیر کی جائیں۔ ان کے علاوہ یہاں ایک بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی بنایا جائے اور اندرونی اور بیرونی سطح پر اس کی تشہیر کی جائے تاکہ شمالی سیناء کا علاقہ سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بن جائے۔ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر سے یہاں تجارتی اور صنعتی مراکز قائم کیے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں