.

فلسطین کی جنگ 1948ء میں شریک سعودی سپاہی کی کچھ یادیں!

العتیبی نےکئی تک فلسطین کی جنگ لڑی، جیلیں کاٹیں، اذیتیں اٹھائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں سعودی عرب میں متعین فلسطینی سفیر باسم عبداللہ آلاغا نے سنہ 1948ء کی فلسطین ۔ اسرائیل جنگ میں حصہ لینے والے ایک سعودی سپاہی ابراہیم بن ثواب التینی سے الریاض میں قائم شہزادہ محمد بن عبدالعزیز اسپتال میں ملاقات کی۔ 92 سالہ العتیبی ان دنوں بستر علالت پر ہیں۔

فلسطینی سفیر نے انہیں فلسطینی صدر کی طرف سے ’القدس زرہ‘ اور ان کی فلسطینی قوم کے لیے خدمات کے اعتراف میں انہیں ’تعریفی سرٹیفکیٹ‘ بھی پہنچایا۔ العتیبی ان اولین شہریوں میں شامل تھے جنہوں نے فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف سب سے پہلے معرکوں میں فلسطینی قوم کی پکار پر لبیک کہا اور قابض صہیونیوں کے خلاف لڑائیوں میں حصہ لیا۔

سنہ 1948ء میں جب ہگانا صہیونی مسلح گروپ کے خلاف فلسطینی قوم نے مدد کے لیے پکارا تو اس میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبدالعزیز پیش پیش تھے۔ انہوں نے فلسطینی قوم کی آواز پر دفاع فلسطین کے لیے لشکر تشکیل دیا۔ العتیبی اس وقت 20 سال کے تھے۔

گرفتاری اور اذیتیں

اسپتال میں زیرعلاج ابراہیم العتیبی کے بیٹے خالد ابراہیم العتیبی نے اپنے والد کی جہاد فلسطین کے لیے خدمات سے متعلق یادوں کا تذکرہ کیا۔ خالد نے بتایا کہ ان کے والد نے فلسطین جنگ میں حصہ لیا تو انہیں ْصہیونیوں نے حراست میں لے لیا۔ گرفتاری کے بعد انہیں مسلسل آٹھ سال تک انہیں عقوبت خانوں میں اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ وطن واپسی پر العتیبی شاہ عبدالعزیز کے خصوصی گارڈز میں شامل ہوگئے۔ پھر انہیں وزارت صحت کے زیر اہتمام ایک مشن پر کویت بھیجا گیا۔ سنہ 1999ء میں وہ کویت سے دوبارہ سعودی عرب آئے اور وزارت اطلاعات میں شامل ہوگئے۔

خالد نے بتایا کہ میرے والد نے سنہ 1948ء کی فلسطین جنگ میں حصہ لیا۔ وہ جس لشکر میں شامل تھے اس کی تعداد 513 تھی۔ ان میں سے 134 شہید اور 34 زخمی ہوگئے تھے جب کہ 130 رضاکاروں کو بہادری کے کارناموں پر تمغے بھی دیے گئے۔

فلسطین کے لیے لڑنے والے سعودی سپاہی کے بیٹے نے بتایا کہ ان کے والد نے سنہ 1948ء کی جنگ کے لیے سفر عرجا الدوادمی قصبے سے شروع کیا۔ اس کے بعد وہ ساجر، القصیم، ینبع سے گذر کر تبوک پہنچے جہاں باب العموم کے مقام پر ان کی فلسطینی نمائندوں سے ملاقات کرائی گئی اور وہاں سے انہیں فلسطینی لیڈر عبدالقادر حسین کے پاس بھیج دیا گیا۔

المالکیہ کی آزادی اور الفولہ العسولہ کے معرکے

خالد العتیبی نے بتایا کہ اس کے والد نے فلسطینی علاقے المالکیہ کو صہیونی جتھوں سے آزاد کرانے والے لشکر کے ساتھ مل کر لڑائی لڑی، اس کے بعد وہ لبنان میں عسعس روانہ ہوگئے۔ پھر الرامہ اور الشجرہ میں ہونے والی لڑائی میں حصہ لیا اور یہودیوں پر فتح پائی۔ العتیبی نے الفولہ اور العسولہ کی لڑائیوں میں بھی حصہ لیا۔ یہ دونوں انتہائی طاقت ورک معرکے تھے۔

ان میں سے ایک لڑائی کے دوران فلسطینی مجاھد لیڈر عبدالقادر حسین کو شہید کرنے کے بعد ان کا جسد خاکی صہیونیوں نے قبضے میں لے لیا۔ سعودی مجاھدین نے صہیونیوں پر حملہ کر کے شہید فلسطینی رہ نما کا جسد خاکی ان سے واپس لے لیا اور یرغمال بنائی گئی خواتین اور بچوں کو بھی بازیاب کرایا۔

الشجرۃ کی لڑائی، گرفتاری اور زخمی

انہوں نے بتایا کہ سعودی رضاکاروں کے گروپ جس میں ابراہیم العتیبی بھی شامل تھے نے الشجرۃ کی لڑائی میں حصہ لیا۔ وہ اس لڑائی میں دشمن کے محاصرے کو توڑ کر فرارہونے میں کامیاب ہوگئے مگر اس دوران وہ زخمی ہوئے۔ ان کے سینے اور دائیں ران پر زخم آئے تھے۔ بعد ازاں صہیونیوں نے انہیں حراست میں لے لیا انہیں حیفا کی ایک جیل میں قید کر دیا گیا جہاں ان کے کئی دوسرے ساتھی بھی پابند سلاسل تھے۔ دوران حراست ان کے ناخن بھی کھینچ لیے گئے۔

وطن واپسی، اسرائیلی خواتین کی واپسی

خالد العتیبی نے بتایا کہ ان کے والد آٹھ سال کے بعد دمشق کے راستے وطن واپس لوٹے۔ وہ اپنے ساتھ اسرائیلی خواتین اہلکاروں کو بھی گرفتار کر کے لائے تھے تاہم ان خواتین کو شامی فوج کے حوالے کردیا گیا۔ وہاں پر انہیں اعزازی تمغے دیے گئے اور ان کی خدمات کے اعتراف میں نہیں گولڈن اسٹار سے نوازا گیا۔ وہاں سے وہ ریل گاڑی پر سوار ہو کر سعودی عرب پہنچے جہاں شاہ عبدالعزیز نے ان کا استقبال کیا۔

شاہ عبدالعزیز کے محافظ دستے میں شمولیت

فلسطین میں بہادری کے جوہر دکھانے کے بعد وطن واپسی پر ابراہیم العتیبی کو مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے خصوصی حفاظتی دستے میں شامل کردیا گیا۔ وہ 85 سال کی عمر میں ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ وزارت صحت کے تحت کویت میں کام کیا، کویت سے واپسی کے بعد وہ وزارت اطلاعات میں آگئے جہاں وزارت اطلاعات میں انہیں شاہ فہد کا خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا۔ شاہ فہد اس وقت وزیر داخلہ تھے۔