میں نے مفاہمتی یادداشت کی منظوری دے دی، پزشکیان ذمہ داری قبول کریں: مجتبیٰ خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی اور امریکی صدور کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی منظوری کا اذن جاری کر دیا ہے۔ یہ اس کے باوجود کیا کہ مجھے اس کے متن پر تحفظات تھے۔ یہ فیصلہ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر حکام کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کیا کہ وہ عوام کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

ایرانی عوام کے نام ایک تحریری پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر مختلف تھا لیکن انہوں نے ایرانی صدر کے ساتھ اپنی وابستگی کی وجہ سے اس کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کی ذمہ داری اٹھانے کا عہد کیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ مسعود پزشکیان نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے اس معاہدے کے تحت ایران کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے حد سے بڑھے ہوئے مطالبات کیے تو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات کا مطلب دشمن کے نقطہ نظر کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فریق نے اپنے مطالبات میں مبالغہ آرائی کی تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔

مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد اور سابق رہبر اعلی علی خامنہ ای کی جانشینی کے لیے منتخب ہونے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں ۔ ان کے والد 28 فروری 2026 کو اسرائیلی و امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے تھے۔ انہوں نے صرف تحریری پیغامات اور بیانات پر اکتفا کیا ہے۔ اپریل میں "نیویارک ٹائمز" نے رپورٹ کیا تھا کہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وہ شدید زخمی ہیں اور ان کا چہرہ مسخ ہو چکا ہے۔ ان کی ایک ٹانگ کے 3 آپریشن ہو چکے ہیں اور وہ مصنوعی ٹانگ لگنے کے منتظر ہیں۔

مفاہمت تاریخی قرار

اس سے قبل جمعرات کو ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کی تعریف کرتے ہوئے اسے تاریخی قرار دیا جس پر ان کے اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط موجود ہیں اور جو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات کی راہ ہموار کرتی ہے۔ مسعود پزشکیان نے جمعرات کو "ایکس" پر اس یادداشت کی انگریزی زبان میں ایک کاپی شیئر کی جس کے نیچے ان کے اور ٹرمپ کے دستخطوں کے علاوہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں۔ پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی قیادت کی ہے۔

شیئر کردہ تین صفحات کے دستاویزی کاغذات میں انگریزی زبان میں اس دستاویز کے شامل کردہ 14 نکات کو دکھایا گیا ہے۔ ایرانی صدر نے اس دستاویز کے ساتھ ایک کیپشن بھی منسلک کیا جس میں لکھا تھا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایران کی طرف سے ایک مضبوط پیغام ہے کہ باہمی احترام کے سائے میں امن قائم ہو کر رہے گا۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کی جانب سے بدھ کو صحافیوں کے سامنے پڑھی جانے والی اس موجودہ مفاہمتی یادداشت میں یہ طے پایا ہے کہ امریکہ اس پر دستخط ہوتے ہی ایرانی تیل کی فروخت پر عائد اپنی پابندیاں فوری طور پر معطل کر دے گا۔ واشنگٹن 60 دن کی مذاکراتی مدت کے اختتام پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں تہران پر عائد اپنی تمام پابندیاں اٹھانے کا بھی پابند ہو گا۔

معاہدے کے مطابق ایران کو 30 دنوں کے اندر سٹریٹجک آبنائے ہرمز میں سمندری جہاز رانی کی آمد و رفت کو مکمل طور پر بحال کرنے کی اجازت دینا ہو گی۔ ایسے وقت میں جب اس کی طرف سے عائد کردہ مسلسل بندش نے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس دستاویز میں اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کم از کم طریقہ کار بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کی نگرانی میں جائے وقوعہ پر افزودگی کی شرح کو کم کرنا ہے۔

حتمی معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں امریکہ ایران میں معیشت کی تعمیرِ نو اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر کے مشترکہ طور پر متفقہ حتمی منصوبے کو تیار کرنے کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا پابند ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size