.

عربی زبان کے وہ حروف جنہوں نے عربی الفاظ کو غیر عربی بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی زبان میں غیر عربی یا عجمی الفاظ کا شامل ہونا ایک وسیع موضوع ہے جس کو قدیم تصنیفات میں بڑی جگہ دی گئی۔ موضوع کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر ماہرین لسانیات نے اس کو بھرپور توجہ دی۔

عربی زبان کے بہت سے مؤلفین نے اُن الفاظ کو نمایاں طور پر پیش کیا ہے جو درحقیقت بنیادی طور پر غیر عربی الفاظ ہیں اور عربی زبان میں داخل ہو کر دخیل یا معرّب الفاظ کہلاتے ہیں۔ خواہ یہ الفاظ قرآن کریم ، احادیث مبارکہ ، دور جاہلیت کی شاعری یا اسلام آنے کے بعد کی ادبی کاوشوں اور تصفینات میں وارد ہوئے ہوں۔

ابو منصور الجوالیقی (اصلی نام : موہوب بن احمد بن محمد 465 – 540 ہجری) نے اپنی کتاب "المعرّب من الكلام الأعجمي على حروف المعجم" میں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

الجوالیقی نے ادب کے قدیم عرب راویوں اور ماہر لسانیات کے حوالے سے ایسے الفاظ کی بڑی تعداد کو جمع کیا جو عربی زبان میں بولے جاتے ہیں جب کہ ان کی اصل عجمی ہے یعنی وہ عربی زبان میں داخل کر لیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کتاب میں ایک خصوصی باب باندھا ہے جس میں لفظ کی شناخت کی گئی ہے کہ آیا وہ اصلا عربی ہے یا نہیں۔ اس واسطے مخصوص حروف کے طریقہ کار کو استعمال کیا گیا اور لفظ کے معنی کی روشنی میں ان کے بنیاد طور پر عربی ہونے کی جانب اشارہ کیا گیا۔

ان حروف کے ساتھ الفاظ معرّب یا دخیل بن جاتے ہیں۔

الجوالیقی نے کئی عربی حروف کو ایک فہرست میں شامل کیا ہے جو ایک لفظ میں جمع ہو جائیں تو وہ الفاظ عجمی الفاظ شمار ہوتے ہیں۔

الجوالیقی کے مطابق "کسی بھی عربی لفظ میں (ج) اور (ق) جمع نہیں ہوئے، یہ جب بھی کسی لفظ میں ساتھ آئیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ لفظ دخیل یا معّرب ہے"۔ مثلا یہ الفاظ : جرندق، أجوق، الجوق اورالقبج.

اسی طرح اگر کسی لفظ میں (ج) اور (ص) ساتھ جمع ہو جائیں تو یہ غیر عربی لفظ ہو گا۔ ایسے مشہور الفاظ کی مثال "الجص"، "الصولجان" اور "الصهريج" ہے۔

الجوالیقی نے یہ بھی باور کرایا ہے کہ عربوں کے کلام میں ایسا اسم نہیں جس میں (ن) کے فورا بعد (ر) آتا ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر یہ لفظ معرّب ہو گا۔ مثلا : نرجس، نرس اور نرجة.

اسی طرح اصلا عربی زبان کے کسی لفظ میں بھی (د) کے بعد (ز) نہیں آتا ہے۔ اگر ایسی صورت بنتی ہے تو یہ دخیل الفاظ میں سے ہے۔ مثلا : الهنداز اور المهندز (جو "المهندس" بن گیا).

الجوالیقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماہر لسانیات کے نزدیک عربی کا کوئی لفظ بھی (ب) ، (س) اور (ت) کو جمع کر کے نہیں بنتا۔ لہذا اگر یہ ایک لفظ میں ہو جائیں تو یہ لفظ دخیل میں سے ہے۔ مثلا "بستان" کا لفظ یہ فارسی زبان کا ہے۔

قدیم دور کے عرب ماہر لسانیات کا کہنا ہے کہ (س) اور (ذ) کے حروف عربوں کے کلام میں جمع نہیں ہوتے۔ مثلا : الساذج اور الأستاذ.

ابو نصر اسماعيل بن حماد الجوہری کی تالیف "الصحاح" کے مطابق اگر کسی لفظ میں (ط) اور (ج) کے حروف جمع ہو جائیں تو وہ غیر عربی لفظ ہو جائے گا۔

اسی طرح (ت) اور (ط) بھی عربوں کے کلام میں ایک لفظ میں جمع نہیں ہو سکتے۔ مثلا لفظ "الطست".

علاوہ ازیں اصلا عربی کے لفظ میں (ک) اور (ج) ، (ک) اور (ق) جمع نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح کسی لفظ میں اگر (ل) کے بعد (ش) کا حرف آجائے تو وہ عربی لفظ نہیں ہو گا۔

علم عروض اور ماہرین لسانیات نے الفاظ کے عربی ہونے یا نہ ہونے کی جانچ کے لیے اوزان کا بھی استعمال کیا ہے۔ ان کے نزدیک بعض اوزان ہیں جو عربوں کے کلام میں نہیں آتے۔ مثلا : "فاعُل" کے وزن پر كابل، "فُعالل" کے وزن پر سُرادق اور "فَعلِل" کے وزن پر نرجس.

البتہ مذکورہ الفاظ کا جمع ہونا کسی لفظ کے غیر عربی ہونے کو جانچنے کے لیے واحد پیمانہ نہیں بلکہ یہ محض ایک عمومی فوری لاگو کیا جانے والا معیار ہے۔ ایسے بہت سے غیر عربی الفاظ ہیں جن پر یہ پیمانہ لاگو نہیں ہوتا کیوں کہ ان الفاظ میں مذکورہ حروف جمع نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ عربی زبان کے دخیل یا معرّب الفاظ عربوں کے کلام کا حصّہ بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے دخیل حروف کو اصلی حروف سے تبدیل کر دیا گیا۔ اسی طرح لفظ کو تبدیل کیا گیا تا کہ وہ منقول زبان کے قریب ترین ہو۔ ان ترامیم کے بعد معرّب الفاظ عربی زبان کی لفظی ثروت کا حصّہ بن گئے بلکہ تحریر و تخاطب اور بیان میں راسخ ہو جانے کے باعث ان میں بہت سے الفاظ سے بے نیازی نہیں برتی جا سکتی۔