تل ابیب اور امریکی انتظامیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے تناظر میں، اسرائیل کے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے دوبارہ تصدیق کی کہ وہ جنوبی لبنان سے فوج کو واپس نہیں بلائیں گے۔
کاٹز نے آج بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ "اگر امریکی مطالبہ بھی ہو، تب بھی ہم جنوبی لبنان سے اپنی افواج کو واپس نہیں بلائیں گے... اور ہم شمالی بستیوں کے 2 لاکھ باشندوں کو سابقہ خطرے کی صورت حال میں واپس آنے کی اجازت نہیں دیں گے"۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی فوج شام اور لبنان میں اس جگہ سے نہیں ہٹے گی جسے انہوں نے "سکیورٹی زون" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ ہمارا سکیورٹی نظریہ ہے ... اسرائیلی فوج کو دشمن کی جانب ہونا چاہیے اور قصبوں کا دفاع ان کی اپنی سرزمین کے اندر سے کرنا چاہیے... فوجی اندر ہوں، اور باشندے باہر.. ہم انخلاء نہیں کر رہے ہیں"۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیل کے وزیر خارجہ گدعون ساعرنے تصدیق کی کہ "واشنگٹن میں لبنان کے ساتھ کل منگل سے جاری مذاکرات تاریخی اور انتہائی اہم ہیں"۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ "حزب اللہ لبنان کی آزادی اور اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے"۔
دوسری جانب لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے آج اپنے بیان میں وضاحت کی کہ "ہتھیاروں کو محدود کرنے کا مسئلہ اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے نہیں ہے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی حکام اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں اس لیے گئے کیونکہ یہ لبنان کے لیے کم خرچ راستہ ہے۔ سلام نے نے واضح کیا کہ حکومت کو اس سیل کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو سوئٹزرلینڈ میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ واشنگٹن میں مذاکرات کا عمل اس سے مختلف ہے۔
وزیر اعظم نے نے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلاء اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے لبنان کے اصرار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا "ہم پانچ پوائنٹس کے باقی رہنے کو قبول نہیں کریں گے اور نہ دو کو ... ہم قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں اور سرحدوں پر زیر التواء پوائنٹس کے مسئلے کو ختم کرنا چاہتے ہیں"۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور جاری ہے جو کل شروع ہوا تھا۔ اس کا مقصد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جو جنگ اور ان تصادموں کو ختم کرے جو 2 مارچ کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شروع ہوئے تھے اور جن کے نتیجے میں تقریباً 4000 لبنانی ہلاک ہوئے۔
یہ بیانات واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اعتماد کے بحران کے بیچ آئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی انتظامیہ کے حکام کی جانب سے اسرائیلی حکومت پر تنقید کی گئی ہے۔
چونکہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات شدید اتار چڑھاؤ سے گزر رہے ہیں، جس کا اثر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والی تنقید کے ذریعے واضح طور پر دیکھا گیا۔ امریکی صدر نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ جنگوں کے شوقین ہیں۔ ٹرمپ نے انہیں ہوش سے کام لینے کا کہا۔
-
ہمارے جوہری مقامات کا معائنہ صرف حتمی معاہدے کے تحت ہی ممکن ہوگا:ایران
امریکی حکام اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ...
مشرق وسطی -
ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مصالحت کی کوششیں شروع: قطری وزیراعظم عمان پہنچ گئے
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات کے درمیان ایک باخبر سفارتی ذریعے نے ...
مشرق وسطی -
ایران کی رقوم صرف امریکی مصنوعات پر خرچ ہوں گی... ٹرمپ کا دوبارہ اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ تصدیق کی ہے کہ جاری کی جانے والی ایرانی رقوم ...
بين الاقوامى