.

سعودی خواتین نے اپنے دفاع کے لیے ’’روح ‘‘کے کھیل باکسنگ کے دستانے پہن لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ دو ایک سال کے دوران میں خواتین کو مختلف شہری آزادیاں اور حقوق حاصل ہونے کے بعد اب وہ ایسے کھیلوں کی جانب بھی راغب ہورہی ہیں جن سے پہلے انھیں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی۔باکسنگ ان میں سے ایک ہے اور ماضی میں کسی بھی سطح پر باکسنگ کے رنگ میں سعودی خواتین کم ہی نظر آئی ہیں۔

باکسنگ کے کھیل کو پہلے سعودی معاشرے میں صرف مردوں کے لیے مناسب سمجھا جاتا تھا لیکن اب خواتین بھی مکے بازی کے میدان میں داخل ہورہی ہیں۔وہ اس کھیل میں دلچسپی لے رہی ہیں اور اس میں طاق ہونے کے لیے مختلف کلبوں میں فنی تربیت حاصل کررہی ہیں۔

سعودی عرب کے مشرقی شہر الخوبر میں ایک باکسنگ کلب میں خواتین باکسروں کو تربیت دی جارہی ہے اور اس کھیل کے اسرار ورموز سکھائے جارہے ہیں۔العربیہ کی نمایندہ نے اس کلب کے ہال میں موجود دو خواتین فاطمہ النعیمی اور ایسرا قادری سے اس حوالے سے بات کی ہے ۔ وہ ہال میں مکے بازی کی مشق کے لیے چھت سے بندھے بیگ کے ساتھ اپنی زور آزمائی کررہی تھیں اور پھر وہ آپس میں ایک دوسری پر شوقیہ مکے بازی کا فن آزما رہی تھیں۔

انھیں کلب میں فاطمہ النعیمی نامی ایک ٹرینر تربیت دے رہی ہیں۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ہمیشہ کھیلوں اور بالخصوص باکسنگ سے محبت رہی ہے ۔اس کھیل کے بارے میں ابتدائی تربیت کے بعد انھوں نے مستقل مزاجی سے آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا اور مختلف سطحوں پر اس کے مقابلوں اور پروگراموں میں حصہ لیا۔پھر وہ پنک گلووز باکسنگ پروگرام میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن گئیں ۔

اب وہ ساحلی شہر جدہ اور الخوبرمیں باکسنگ میں دلچسپی رکھنے والی سعودی خواتین کو تربیت دے رہی ہیں۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان سے تربیت حاصل کرنے کے بعد یہ خواتین خود دوسروں کو تربیت دینے کے قابل ہوجائیں گی اور اس طرح اپنی مہارتوں کو دوسری خواتین تک منتقل کرنے کا سبب بنیں گی۔

ایسرا قادری نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ باکسنگ روح اور جذبے کا کھیل ہے۔اس سے روح کو تازگی ، ذہانت اور تسکین ملتی ہے ۔یہ وقتِ ضرورت اپنے دفاع وتحفظ کا بھی کھیل ہے۔اسی لیے میں نوجوان خواتین کی مکے بازی میں پریکٹس کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں۔یہ ان کی شخصیت سازی کے علاوہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے‘‘۔