اماراتی خلانورد ہزاع المنصوری بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب روانہ، نئی تاریخ رقم
متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے خلا نورد ہزاع المنصوری نے نئی تاریخ رقم کردی ہے اور وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ( آئی ایس ایس) کی جانب روانہ ہونے والے امارات کے پہلے خلا نورد بن گئے ہیں۔
ہزاع المنصوری کو بدھ کے روز قزاقستان میں واقع بیکا نور کے خلائی مرکز سے سوئز ایم ایس 15خلائی جہاز سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب بھیجا گیا ہے۔
ابو ظبی سے تعلق رکھنے والے المنصوری نے اس اہم مشن پر روانہ ہونے سے قبل اللہ تعالیٰ سے اپنی کامیابی کی دعا کی۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا:’’ خلائی مشن پر روانہ ہونے سے قبل میں ناقابلِ بیان احساسات وجذبات سے لبریز ہوں۔آج میں اپنے ملک کے خوابوں اور خواہش کو ایک نئی جہت دینے جارہاہوں۔‘‘
A few hours before launch and I’m filled with this indescribable feeling of glory and awe. Today I carry the dreams and ambition of my country to a whole new dimension. May Allah grant me success in this mission. Your brother, Hazzaa AlMansoori.
— Hazzaa AlMansoori (@astro_hazzaa) September 25, 2019
اس مشن کی تکمیل میں آٹھ دن لگیں گے اور ہزاع المنصوری تین اکتوبر کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر قدم رکھیں گے۔ان کا یہ عمل یو ٹیوب اور دبئی ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے گا۔
خلائی اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد المنصوری زمین کا مشاہدہ کریں گے، اسٹیشن پر جاری سائنسی مشنوں میں حصہ لیں گے اور عربی زبان میں اسٹیشن کے سفر کا احوال پیش کریں گے۔
المنصوری اور سلطان النیادی یواے ای کے خلائی پروگرام کے تحت تربیت پانے والے خلانوردوں کے پہلے بیچ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ پروگرام دبئی کے حاکم ، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمدبن راشد آل مکتوم اور ابو ظبی کے ولی عہد اور یو اے ای کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے اپریل 2017ء میں شروع کیا تھا۔
اس پروگرام کا مقصد تربیت یافتہ اماراتی خلانوردوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کرنا ہے جس کو مختلف سائنسی مشنوں کے لیے خلا میں بھیجا جاسکے گا۔اس پروگرام کے تحت المنصوری اور النیادی کو ماسکو میں تربیت دی گئی ہے۔اس پہلے مشن میں اوّل الذکر مرکزی خلانورد ہیں اور النیادی کو ان کے متبادل کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
ہزاع المنصوری خلیفہ بن زاید ائیر کالج سے 2004ء میں گریجوایٹ ہوئے تھے اور وہ فوجی ہوابازی میں چودہ سالہ تجربے کے حامل ہیں۔