ریاض ایئر نے خصوصی ضروریات کے مطابق تیارکردہ اولین ڈریم لائنر طیارے وصول کر لیے
نئے جیٹ طیارے یکم جولائی سے ریاض-لندن روٹ پر چلیں گے
سعودی عرب کی نئی قومی فضائی کمپنی ریاض ایئر نے خصوصی ضروریات کے مطابق تیارکردہ اولین دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنرز وصول کر لیے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی نے جمعہ کو بتایا، تجارتی توسیع کے لیے ایئرلائن کی تیاریوں اور ریاض کو ہوابازی کا عالمی مرکز بنانے کے لیے مملکت جو وسیع تر کوششیں کر رہی ہے، یہ اقدام ان میں ایک اہم سنگِ میل کا مظہر ہے۔
طیارے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ائیرپورٹ پر مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے پہنچے جن کا استقبال واٹر کینن کی رسمی سلامی سے کیا گیا۔ HZ-RXAA اور HZ-RXAB کے طور پر رجسٹرڈ اور کال سائنز "ریاض ون" اور "ریاض ٹو" کے تحت کام کرنے والے جیٹ طیارے ریاض ایئر کے 72 طیاروں کے آرڈر میں سے اولین وصول کردہ ترسیل ہیں۔
ایئرلائن مکمل طور پر سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پِف) کی ملکیت ہے اور معیشت کو متنوع بنانے اور ہوابازی و سیاحت کے شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے مملکت کے ویژن 2030 کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس نے کہا: "ہم نہ صرف ایک ایئرلائن بنا رہے ہیں بلکہ ہم مملکت کے قلب سے دنیا کے لیے ایک نیا در کھول رہے ہیں۔"
ایئرلائن اپنے بیڑے کو 180 سے زیادہ طیاروں تک وسعت دینے اور ریاض کو 2030 تک تمام دنیا میں 100 سے زیادہ مقامات سے منسلک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ریاض ایئر کو توقع ہے کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع مملکت کے محلِ وقوع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اس سال کے آخر تک تقریباً 20 مقامات پر سروس فراہم کرے گی۔
ریاض ایئر نے ریاض-لندن روٹ پر اپنے نئے ڈریم لائنرز کی پروازوں کے لیے عوامی ٹکٹوں کی فروخت شروع کر دی جس کے چند ہفتوں بعد یہ طیارہ پہنچا۔ اس کے لیے مکمل سروس آپریشنز یکم جولائی سے شروع ہونے والے ہیں۔ لندن ہیتھرو سروس خصوصی طور پر ریاض ایئر کے نئے بیڑے کے تحت کام کرنے والا پہلا روٹ ہو گی اور توقع ہے کہ ایئرلائن کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے سنگِ بنیاد کے طور پر کام کرے گی۔
ہوائی جہاز میں بزنس ایلیٹ، بزنس، پریمیئم اکانومی اور اکانومی پر مشتمل چار طبقات کی کیبن کنفیگریشن ہے جس میں جدید ترین اندرونِ پرواز تفریحی نظام، بلوٹوتھ سے مربوط اور تیز رفتار ڈیجیٹل سروسز شامل ہیں جو ایئرلائن کے ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری ماڈل کی معاونت کرتی ہیں۔
سعودی ایوی ایشن حکام نے پیش گوئی کی ہے کہ ریاض ایئر بالآخر مملکت کی غیر تیل کی معیشت میں تقریبا 20 بلین ڈالر داخل کرے گی اور 200,000 سے زیادہ براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرنے میں معاونت کرے گی۔
پِف کے گورنر یاسر الرمیان ایئرلائن کی سربراہی اور اتحاد ایئرویز کے سابق چیف ایگزیکٹو ٹونی ڈگلس اس کی قیادت کر رہے ہیں ۔ یہ ڈیجیٹل طور پر چلنے والی، مکمل سروس کی حامل ایئرلائن کے طور پر سامنے آئی ہے جہاں سعودی مہمان نوازی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج دیکھنے کو ملے گا۔
-
لبنان کے لیے سعودی حمایت پر ولی عہد محمد بن سلمان کے ممنون ہیں: جوزف عون
لبنان کے صدر جوزف عون نے جمعہ کے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بحرین اور ریاست کویت کی خودمختاری کو نشانہ بنانے والے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کی طرف سے لبنان میں یونی فِل کے مقام پر حملے کی مذمت
سعودی عرب نے جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فوج (یونی فِل) کے فوجی مقام پر ...
مشرق وسطی