.

طائف کے افق پر کوندتی آسمانی بجلی کے دل موہ لینے والے مناظر: تصاویر

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو کلچرل اینڈ آرٹس سوسائٹی کے رکن فوٹو گرافر عبدالقادر المالکی کا خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر طائف میں حالیہ موسلا دھار بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری نے موسم کو خوش گوار بنا دیا۔ اس موسم سے ہر شخص لطف اندوز ہونے کے ساتھ ان مناظر کو کیمرے میں محفوظ کرکے یادگار بنانا چاہتا ہے۔

سعودی عرب کی کلچرل اینڈ آرٹس سوسائٹی کے رکن فوٹو گرافر عبدالقادر المالکی ایک ایسے ہی نوجوان ہیں جو مناظر قدرت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ طائف میں حالیہ ہفتے کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تو عبدالقادر المالکی نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے افق پر کوندتی ہوئی آسمانی بجلی کے مناظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے لگے۔ انہوں نے کوندتی آسمانی بجلی کے مناظر کی تصاویر بنانے کے لیے طائف کے پہاڑوں اور ڈھلوانوں میں طویل سفر کیا اور مسلسل وہ آسمانی بجلی کے تعاقب میں رہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میں بہت چھوٹی عمر سے مناظر فطرت، بادلوں اور بارش سے محبت کرتا ہوں۔ سنہ 2015ء سے، میں نے اعلیٰ خصوصیات کا حامل کیمرہ استعمال کرنا شروع کیا۔ طائف کے پہاڑی علاقوں میں گرج چمک کے حیرت انگیز مناظر ہوتے ہیں اور انہیں محفوظ کرنے کے لیے موقع چاہیے ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہاڑی چوٹیوں پر فلم بندی کے دوران خطرات اور پھسلن کے امکانات کے باوجود میں اس شوق کو جوش وخروش کے ساتھ پورا کرتا ہوں۔ خاص طور پر طائف شہر پر شدید بارش کے دوران ہی تو آسمانی بجلی کے تعاقب کا موقع ہوتا ہے۔

عبدالقادر المالکی کا کہنا تھا کہ میں نے چٹانوں میں گھری طائف کی وادیوں کے درمیان سفر کیا۔ خطرات حالات کی پرواہ کیے بغیر تصاویر اور مناظر کی فلم بندی کے لیے اس کے پہاڑوں پر چڑھ گیا۔ بعض اوقات بہت خوفناک صورت حال اور موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایسے مواقع پر لوگ خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ موسم اور زمینی حالت ان کا ساتھ نہیں دیتی اور ان کی فلم بندی کا مشن بھی مشکل میں پڑ جاتا ہے۔