سعودی عرب:خواتین سے نارواسلوک پرجیل اور بھاری جرمانے کی سزاؤں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں حکام نے خواتین کو جسمانی یا نفسیاتی اذیت دینے یا ان پر جنسی حملوں کے مرتکب افراد کو قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنانے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی پبلک پراسیکیوشن کے دفترکے ایک اعلامیے کے مطابق کسی پر عورت پر حملے میں ملوّث فرد کو ایک ماہ سے ایک سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔اس کے علاوہ اس پر 5000 ہزار( 1333 ڈالر) سے 50 ہزار سعودی ریال (13332 امریکی ڈالر) تک جرمانہ بھی عاید کیا جاسکے گا۔

سعودی عرب نے اس نئے قانون کا اعلان بدھ کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام ’’خواتین کے خلاف ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر کیا ہے۔ یہ دن ہر سال 25 نومبرکومنایا جاتا ہے۔

سعودی خواتین کے حقوق

سعودی عرب میں گذشتہ چند سال کے دوران میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قانونی اصلاحات کی گئی ہیں۔خواتین کو مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کارچلانے کا حق دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ خواتین کو کسی مرد سرپرست کے بغیر پاسپورٹس کے حصول کے لیے درخواست دینے اور آزادانہ سفر کی اجازت ایسے حقوق شامل ہیں۔

عالمی بنک کی جنوری میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کو گذشتہ تین سال کے دوران میں کی جانے والی اقتصادی اور قانونی اصلاحات سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے 2017ء کے بعد عالمی سطح پر صنفی مساوات کی جانب سب سے زیادہ پیش رفت کی ہے۔سعودی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو خواتین کو بیرون ملک سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

سعودی خواتین کی ملازمتوں کے تحفظ اور انھیں امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے بھی قانونی ترامیم کی گئی ہیں۔ان کے تحت کوئی آجر کسی خاتون کو حمل اور بچے کی ولادت کے لیے چھٹیوں کے دوران میں ملازمت سے برطرف نہیں کرسکتا۔مالیاتی خدمات تک رسائی کے عمل میں بھی خواتین سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی بنک کی ’’خواتین ، کاروبار اور قانون 2020‘‘ کے نام سے رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2019ء میں خواتین کو بہتر اور مساوی مواقع مہیّا کرنے کے لیے دور رس نتائج کی حامل اصلاحات کی گئی تھیں۔

ان اصلاحات کے تحت سعودی خواتین اور مردوں کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی عمر مساوی 60،60 سال کردی گئی ہے۔اس طرح خواتین کے کام کے دورانیے اور آمدن کے مواقع کو بڑھا دیا گیا ہے۔

کرونا کی وَبامیں خواتین کو درپیش خطرات

دنیا بھر میں جاری کرونا وائرس کی وَبا کے دوران میں خواتین اور بچّیوں کے خلاف گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق کووِڈ-19 اور حفاظتی احتیاطی تدابیر کے نتیجے میں خواتین کے خلاف تشدد کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ ’’دباؤ ،سماجی اور حفاظتی نیٹ ورکس کے تہس نہس ہونے،آمدن کے ذرائع ختم ہونے اور خدمات تک رسائی میں کمی ایسے امور نے خواتین کے خلاف تشدد کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں