.

مینگروو کے جنگلات 'تاروت' کے ساحل پر مہاجر پرندوں ‌کا مسکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی علاقے الطیف کے جزیرہ تاروت کو سیاحوں کی جنت قرار دیا جاتا ہے۔ جزیرے کے ساحل پر 'مینگروو' کے جنگلات ایک سبز پٹی کی شکل میں وسیع علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ موسم سرما میں دور دراز سے ھجرت کر کے آنے والے پرندے اس جادوئی پٹی میں داخل ہوتے اور وہاں پر اپنا مسکن بناتے ہیں۔

دوسری طرف القطیف گورنری کی انتظامیہ اس سیرگاہ کو ماحول دوست بنانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے تاکہ مہاجر پرندوں کو یہاں پر ٹھہرنے کے لیے زیادہ مناسب ماحول فراہم کیا جا سکے۔

جزیرہ تاروت بلدیہ کے چیئرمین انجینیر عبدالعزیز شلاحی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ القطیف گورنری کی بلدیہ قومی ماحولیاتی وسائل کی حفاظت کے لیے کوشاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جزیرے کے ساحل پر موجود 'مینگروو' کے جنگلات 7 کلو میٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جنگلات جزیرے کے شمالی جزیرے تاروت سے مشرقی دارین تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ریتلے ساحل اور سفید ریتلے علاقے میں مینگروو جنگلات کی تیاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے جس کے بعد یہ مقام سیاحوں اور زائرین کے لیے زیادہ پرکشش ہوچکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالعزیز شلاحی نے کہا کہ بلدیہ نے ساحل تاروت پر سرمایہ کاری کے کئی مواقع مہیا کیے ہیں جب کہ مزید کئی نئے مواقع پیدا کرنے پر کام جاری ہے۔ پورے ساحل پر کیمرے لگائے جا رہے ہیں تاکہ جزیرے پر موجود آبادی کے انسانی پہلو اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

سب سے بڑے اور اہم جنگلات

سعودی عرب میں‌ ماحولیات کے ماہر علی العلی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قطیف گورنری مینگروو جنگلات کی کاشت کاری کے لیے موزوں اور زرخیز علاقہ ہے۔ اس میں کئی اہم ساحلی مقامات ہیں جن میں سیھات شہر، ساحل عنک، جزیرہ تاروت، العوامی اور صفوی شہر خاص طور پر شامل ہیں۔

جزیرہ تاروت مینگروو کا سب سے بڑا جنگل ہے۔ یہ جنگل 4 اعشاریہ 27 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ جنگل تعمیرات کی وجہ سے سکڑ رہا ہے اور اس کا 47 فی صد حصہ جنگلات کی زد میں آچکا ہے۔ اس وقت 2 اعشاریہ 25 کلو میٹر جنگل شمال مشرقی جزیرے پر واقع ہے۔

محقق سلمان الرامس کے مطابق جزیرہ تاروت میں مینگروو پودے کی 68 اقسام کاشت کی جاتی ہیں جب کہ باقی پورے خلیجی خطے میں اس کی صرف ایک ہی قسم کاشت کی جاتی ہے۔

الرامس نے مینگروو پودے کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ بہت پرانا درخت ہے۔ دوسری صدی قبل مسیح کے مخطوطوں میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ آج سے 60 سال قبل بھی سعودی عرب کی سرزمین پر یہ درخت وافر مقدار میں کاشت کیا جاتا تھا۔