.

سعودی طالبہ کی منفرد ایجاد، بلڈ بیگ میں وائرس کے انکشاف سے متعلق پہلی ٹیکنالوجی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں 'کالج آف ہیلتھ سائنسز" کی طالبہ امل البلوی نے ایک نئی ایجاد تخلیق کی ہے جس کو طبّی اصطلاح میں "نینو بلڈ بیگز" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امل نے اپنی ایجاد کی اجارہ داری کے حوالے سے بین الاقوامی پیش کشوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے سعودی وزارت صحت کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں تا کہ مملکت اس ٹکنالوجی کو برآمد کرنے والا پہلا ملک بن جائے۔

الاخباریہ نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں امل نے بتایا کہ "یہ ایجاد ایک ٹیکنالوجیکل سروس ہے جو کاربن اور سلیکون کے ذرات پر مشتمل مادہ داخل کرنے کے خیال پر مبنی ہے۔ یہ مادہ خون میں وائرس کے انکشاف کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مادے کی ایسی طبیعاتی خصوصیات ہیں جو وائرس کی جان کاری حاصل کرنے میں کامیاب کرتی ہیں خواہ خون میں وائرس کا ارتکار کم ہی کیوں نہ ہو"۔

سعودی طالبہ نے مزید کہا کہ "اس ایجاد کے سلسلے میں درپیش اہم ترین چیلنجوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ میں نے اس منصوبے کو اپنانے کے حوالے سے تمام بین الاقوامی پیش کشیں مسترد کر دیں۔ میں نے وزارت صحت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تا کہ یہ ایجاد سعودی عرب میں ہو۔ اس طرح مملکت اس نوعیت کی ٹکنالوجی برآمد کرنے والا پہلا ملک بن جائے"۔