.

پردیس میں روایتی عرب پکوان متعارف کرانے والی سعودی خاتون سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے سفر کرنے والے طلبا وطالبات اپنے ملکوں کے سفیر ہوتے ہیں اور وہ دوسرے ملکوں میں اپنی ثقافت کی پہچان کا بھی ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ دوسرے ملکوں میں رہتے ہوئے اپنی قومی ثقافت کے فروغ کے لیے کچھ ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیتے ہیں جو رہتی دنیا تک ایک مثال بن جاتے ہیں۔

سعودی عرب میں اس کی مثال طائف یونیورسٹی کے تدریسی عملے کی رکن ڈاکٹر امیرہ الحارثی کی لی جا سکتی ہے۔ امیر الحارثی اپنے بھائی کے ساتھ تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ گئیں۔ دونوں بہن بھائیوں‌ نے برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی اور لینگویج انسٹیٹیوٹ سے تعلیم حاصل کی

پردیس میں قیام کے دوران امیرہ الحارثی کے ساتھ پیش آنے والے دیگر دلچسپ واقعات میں اس کے اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ کھانوں کو دوسرے ملکوں کے طلبا نے بے حد پسند کیا۔ یہاں تک کہ اس نے سعودی عرب کے دیسی پکوانوں کو مغرب میں‌ متعارف کرانے کے لیے ایک کتاب لکھ ڈالی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے امیرہ الحارثی کا کہنا تھا کہ میرے اندر سعودی عرب کے مقامی پکوانوں کی تراکیب کو ایک کتاب کی شکل میں‌ پیش کرنے کا خیال اس وقت آیا جب وہ برطانیہ میں لینگویج انسٹیٹیوٹ میں اپنے بھائی کے ساتھ داخل ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے فلیٹ میں اپنے لیے کھانا بناتے اور وہ کھانا اگلے دن ساتھ لے جاتے۔ کھانوں کی یہ ترکیبیں اس نے اپنی ماں اور بڑی بہن سے سیکھ رکھی تھیں اور گھر میں کھانا پکانے کے تجربات اسے پردیس میں کام آئے۔ امیرہ اس اور کا بھائی باری باری کھانا بناتے۔

انسٹیٹیوٹ میں دنیا کے دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے طلبا تھے۔ انہیں الحارثی کے تیار کردہ کھانے بہانے لگے اور طلبا نے اس سے ان کھانوں کے پکانے اور ان کی ترکیبوں کے میں اس سے بار بار استفسار کرنا شروع کردیا۔ وہ اپنے ہاسٹل سے تیار کردہ کھانے دوسرے سعودی طلبا کو بھی دیتے۔

ایک سوال کے جواب میں امیرہ الحارثی نے بتایا کہ جب پردیس میں اس سے بار سعودی کھانوں کے بارے میں پوچھا جانے لگا تو اس نے سوچا کہ اسے ان کھانوں کی ترکیبوں کو عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی کام کرنا چاہیے۔ اس کے سامنے تین آپشن تھے۔ پہلا سعودی پکوانوں کا کوئی بلاگ بنا لینا، دوسرا کوئی ہوٹل کھول لینا اور تیسرا کتاب تالیف کرنا تھا۔ تاہم وہ کوئی فیصلہ نہ کر پائی اور وطن واپس آ گئیں۔

گذشتہ برس اسے دوبارہ اپنی تعلیم کی تکمیل کے لیے برطانیہ جانے کا اتفاق ہوا۔ 'کوویڈ 19' کی بندشوں نے اسے اس موضوع پر دوبارہ سوچنے کا موقع فراہم کیا۔ آخر کار اس نے سعودی عرب کے پکوانوں کی تفصیلات اور ان کی ترکیبوں پر مشتمل ایک کتاب شائع کی جسے مختلف آن لائن ویب سائٹس پر مشتہر کردیا گیا۔ اس وقت یہ کتاب فروخت کے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔

اگرچہ یہ کوئی بڑی کتاب نہیں تاہم اس میں مملکت کے مقبول مقامی کھانوں کی تفصیلات درج ہیں۔ کتاب کو 10 صفحات سے بڑھا کر 48 صفحات کر دیا گیا ہے۔ اس میں سعودی عرب کے وہ روایتی پکوان شامل ہیں جو انھوں نے اپنی ماں سے پکانا سیکھے۔