کارمرمت کے مشغلے کو کاروبارمیں تبدیل کرنے والی اماراتی خاتون سے ملیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دنیا میں بہت سے کام ،شعبے یا کاروبار ایسے ہیں جوصرف مردوں ہی کے لیے مخصوص سمجھے جاتے ہیں اور عورتیں بالعموم ان کاموں میں نہیں پڑتی ہیں یاان شعبوں کا رُخ نہیں کرتی ہیں۔ کاروں کی مرمت ایک ایسا ہی کام ہے۔ورک شاپوں یا گیراجوں میں مرد حضرات ہی کاریں ٹھیک کرتےاوران کے نٹ بولٹ کھولتے، جوڑتے نظر آتے ہیں۔

لیکن متحدہ عرب امارات کی خاتون ہدیٰ المطروشی نے اس شعبے میں قدم رکھا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے مشغلے کو کاروبار میں تبدیل کردیا ہے۔ وہ پہلے شوقیہ اپنی کاروں کی دیکھ بھال کرتی اور وقت ضرورت انھیں ٹھیک کرتی تھیں،انھیں کار کے تمام حصوں اور اجزا کے بارے میں کماحقہ معلومات تھیں۔اب وہ اپنے اس شوقیہ فن کو شارجہ میں کھولے گئے گیراج میں بروئے کار لارہی ہیں۔

عرب دنیا اور بالخصوص یو اے ای میں پہلے بھی چند ایک خواتین کاروں کی مرمت کا کام کررہی ہیں لیکن ان میں سے شاید کوئی خاتون خود کسی گیراج کی مالک نہیں۔

المطروشی کہتی ہیں:’’میں اپنے اس کام سے بہت لطف اندوز ہوتی ہوں۔یہ میراکاروبار ہے اور میں بہت خوش ہوں۔‘‘ان کی اس وقت عمر36 سال ہے لیکن انھیں بچپن ہی سے کاروں کا شوق تھا۔

وہ کہتی ہیں:’’میں کاروں اور ان کے ماڈلوں کو پسند کرتی ہوں۔ان کی مکمل تفصیل میں دلچسپی لیتی ہوں۔میں اسپورٹس کاریں پسند کرتی ہوں،ان کے علاوہ لگژری اور عام غیرلگژری کاروں کو بھی پسند کرتی ہوں۔‘‘

انھوں نے اپنے اس شوق اور مشغلے کو کاروبار میں تبدیل کرنے کے لیے شارجہ میں کاروں کی مرمت کی ورک شاپ کھولنے کا ارادے کا اظہار کیا تو ان کے خاندان کے افراد نے اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا کیونکہ انھیں یہ یقین ہی نہیں تھا کہ میں اس کام میں کامیاب ہوں گی۔

وہ بتاتی ہیں:’’تب خاندان کو یہ یقین نہیں تھا کہ میں کار میکنیک کے طور پر کامیاب ہوں گی لیکن میں نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے ایک موقع دیجیے۔مجھ پر بھروسا کیجیے پھر دیکھیے میں کیا کرتی ہوں۔‘‘

ہدیٰ المطروشی نے بتایا کہ مجھے جب والد صاحب نے ورکشاپ کھولنے کی اجازت دے دی اور او کے کردیا تو میرے خاندان کے بیشترافراد حیران تھے۔ کیونکہ ان کا تب بھی یہ کہنا تھا کہ یہ منصوبہ اور یہ کاروبار کوئی آسان کام نہیں ہے۔

ان کے ایک مرد ملازم محمد حلوانی بتاتے ہیں:’’ابتدا میں تو ہمیں یہ بالکل حیران کن منظر لگتا تھا کہ گیراج کی مالک ایک خاتون ہیں لیکن جب میں نے کام شروع کیا تو ہمیں وہ ہدایات دیتیں،اس کو کھولو، اس کو جوڑو،تو ان کی باتوں سے واضح تھا کہ وہ تجربہ کار ہیں۔‘‘

مطروشی مستقبل میں اپنے اس چھوٹے گیراج کو ایک بڑے گیراج میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور یو اے ای بھر میں مزید ورکشاپیں بھی کھولنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ یو اے ای نے گذشتہ ماہ ہی ملک میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک نئے قانون کا نفاذ کیا ہے۔ اس کے تحت ان پر یہ پابندی عاید کی گئی ہے کہ ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کم سے کم ایک خاتون شامل ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں