کرونا وائرس

قبرص کے سائنس دانوں نے کووِڈ-19 کی نئی قسم ’ڈیلٹاکرون‘ دریافت کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قبرص میں کووِڈ-19 کا ایک نیا متغیّردریافت ہوا ہے جو ڈیلٹا اور اومیکرون متغیّرات کا مجموعہ ہے۔اس کو’’ڈیلٹا کرون‘‘کا نام دیا گیا ہے۔

قبرص یونیورسٹی میں حیاتیاتی سائنسز کے پروفیسر اورلیبارٹری آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ مالیکیولروائرولوجی کے سربراہ لیونڈیوس کوسٹریکس نے جمعہ کو سگما ٹی وی سے ایک انٹرویومیں ڈیلٹاکرون سے متعلق اپنی تحقیق کے نتائج کی وضاحت کی ہے۔

انھوں نے کہاکہ ’’اس وقت اومیکرون اور ڈیلٹا دونوں انفیکشن موجود ہیں اورہمیں یہ نیامتغیّر دریافت ہوا ہے جو ان دونوں کا مجموعہ ہے‘‘۔پروفیسرکوسٹریکس نے کہا کہ ڈیلٹا جینوم میں اومیکرون جیسی جینیاتی علامات پائی گئی ہیں۔اس لیے اس نئی دریافت کا نام ’’ڈیلٹاکرون‘‘رکھا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس نئی قسم کے قریباً 25 کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ’ڈیلٹا کرون‘متغیّر کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

دنیا بھرکے محققین کووِڈ-19 کی وَبا پھیلنے کے بعد سے اب تک اس وائرس کی مختلف قسمیں دریافت کرچکےہیں۔آئی ایچ یو میڈیٹرینی انفیکشن سے وابستہ فرانسیسی سائنس دانوں نے دسمبر میں ایک تحقیق شائع کی تھی۔اس میں ایک نئے’’آئی ایچ یو‘‘متغیّرکی دریافت کی وضاحت کی گئی تھی۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کاکہنا ہے کہ آئی ایچ یو کی شکل پہلی بار شناخت ہونے کے بعد سے زیادہ خطرہ نہیں بنی ہے۔ایک اور قسم ’’فلورونا‘‘کے کیسوں کا بھی پتا چلا ہے- اس میں مبتلا کوئی شخص بیک وقت کووِڈ-19 اورانفلوئنزا وائرس دونوں سے متاثرہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ’’فلورونا‘‘کے کیسوں میں اضافے کا امکان ہے جبکہ زیادہ متعدی اومیکرون قسم تیزی سے پھیلتی جارہی ہے۔ البتہ یہ مظہرنیا نہیں ہے جس میں شریک انفیکشن کی اطلاعات کا2020ء کے اوائل کی طرح اعادہ ہورہا ہے۔

اومیکرون قسم کے پھیلنے کے ساتھ ہی کووِڈ-19 کے یومیہ کیس ریکارڈ تعداد تک پہنچ رہے ہیں۔تاہم یومیہ اموات جنوری 2021ء میں سب سے زیادہ تعداد سے ابھی تک کافی نیچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں