ایران جوہری معاہدہ

’’شریر ملاؤں کی ایرانی رجیم امریکہ اور اسرائیل کے درپے ہے‘‘

یقین دلاتا ہوں خامنہ ای کے ہاتھ میں جوہری پن نہیں آئے گا: مائیک پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ایرانی رجیم ’مذہبی شریروں‘ کا ایسا گروہ بن چکا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ ’’میں یقین دلاتا ہوں کہ آیت اللہ خامنہ ای کے ہاتھ میں جوہری ہتھیار نہیں آنے دیے جائیں گے۔‘‘

انہوں نے اس امر کا اظہار ''العربیہ'' سے خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔ پومپیو نے اپنے انٹرویو میں امریکی صدر بائیڈن کی طرف سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ہینڈل کرنے کے طریقے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

بڑے دو ٹوک انداز میں پومپیو نے کہا ''ایرانی رجیم کی اصل حقیقت کو ہم جانتے ہیں۔ ایرانی رجیم مذہبی شریروں پر مشتمل ہے جو اسرائیلی قوم اور امریکہ کی تباہی کا رجحان رکھتی ہے۔'' اس لیے ہمیں یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہم یہ دیکھنے کے لیے مذاکراتی عمل میں پڑیں کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری سست کرنے کے لیے کتنی رقم دینی ہو گی۔''

سابق وزیر خارجہ نے جو بائیڈن کی ایران کے حوالے سے اپروچ اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے معاہدے میں ممکنہ واپسی سے متعلق متضاد باتوں کے بارے میں بتایا۔

واضح رہے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہزار اٹھارہ میں ایرانی جوہری معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جبکہ بائیڈن انتظامیہ اسی معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ ایرانی یورینیم افزودگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ ایک سال سے زائد کے مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ طے پا چکا ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا ''ایران نے پہلی بار ہی اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں جھوٹ بولا تھا، ہم کسی ایسے شخص سے کیوں مذاکرات کریں جو یہ جھوٹ بولے کہ اس کا پروگرام اس سے ماورا ہے۔'' انہوں نے مزید کہا ''اقوام متحدہ کا ادارہ آئی اے ای اے ایران سے این پی ٹی کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ یہ اچھی بات ہے مگر یہ کئی ماہ پہلے ہونا چاہیے تھا۔''

انہوں نے ایران کو یورنیم افزودگی کے معاہدے ’’این پی ٹی‘‘ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور کہا یہ لمبے عرصے سے خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں ہے کہ کوئی کاک ٹیل پارٹی میں دستخط کر دے گا، اصل بات یہ ہے کہ این پی ٹی کے مطابق پوری طرح عمل کا میکانزم کیا اختیار جائے گا اور کس طرح ایران این پی ٹی میں واپس آ سکتا ہے۔''

ایران کی جانب سے این پی ٹی کی خلاف ورزی

این پی ٹی بین الاقوامی معاہدوں میں ایک ''لینڈ مارک'' کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکتے ہوئے جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے لیے تعاون کو فروغ دیتا ہے اور جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور بالآخر جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی بات کرتا ہے۔''

پومپیو کے مطابق معاملہ جے سی پی او اے کا نہیں ہے۔ معاملہ این پی ٹی کا ہے۔ کہ اس پر ایران نے بھی دستخط کر رکھے ہیں۔ جس سے امریکہ کبھی پیچھے نہیں ہٹا ہے۔'' اس لیے ایران کی طرف سے جے سی پی او اے سے دستبرداری محض ایک عذر لنگ ہے۔ '' پہلے ایرانی آئی اے ای اے کی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے رہے اور اب مان رہا ہے کہ اس پر روس اور چین نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔ ''

جب ''العربیہ'' کی طرف سے یہ پوچھا گیا کہ آیا بائیڈن انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی آپشن پر غور کر رہی ہے تاکہ ایران کو معاہدوں کی پاسداری پر مجبور کیا جاسکے؟ پومپیو نے اس بارے تبصرہ کرنے سے انکار کیا اور کہا ''میں اس پر اس لیے زیادہ نہیں کہہ سکتا کہ میں سی آئی اے کا ڈائریکٹر رہا ہوں اور اس کے بعد وزیر خارجہ رہ چکا ہوں۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ اس پر تبصرہ نہ کروں۔'' تاہم یہ کہنا چاہوں گا کہ امریکی قیادت، امریکی فوج کے پاس یہ اہلیت ہے کہ خطے میں ہمارے اتحادی اور دوست یہ یقین رکھیں کہ کہ آیت اللہ خامنہ ای کے ہاتھ میں جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔''

پومپیو نے اس بارے میں یہ بھی کہا کہ یہ بہت ''رسکی'' ہے کہ سب کچھ ہونے دیا جائے اور محض یہ کہہ دیا جائے کہ امریکہ وہ سب کچھ کرے گا جو کرنے کی ضرورت ہو گی لیکن ایسا کیا نہ جائے، ہاں اگر میں حکومت میں ہوتا تو میں یہ ضرور کرتا کہ انہیں رقم دینا بند کر دیتا۔''

انہوں نے اس رقم کے پس منظر میں کہا ''ایران آج بھی حزب اللہ کو رقم دے رہا ہے، آج بھی حماس کو رقم دے رہا ہے، حالانکہ یہ دونوں دہشت گرد گروپ ہیں۔ اسی طرح ایران کی علاقے میں سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔'' اس طرح ایران آج بھی دنیا بھر میں دہشت گرد گروپوں کو اپنے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ اس لیے آپ ان کی رقم تو بند کر سکتے ہیں۔ کہ وہ آج بھی میزائل تجربے کر رہا ہے۔''

یہ یقین دلاتا ہوں کہ ایرانی رجیم کے پاس جانے والا ہر ڈالر اس وقت تیزی سے بڑھتا ہے جب ان کے پاس ہتھیاروں کے لیے کافی مواد ہو اور ڈلیوری کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ناطے کچھ سال پہلے ٹرمپ انتظامیہ کامیابی کی چوٹی پر تھی۔ جس کا نتیجہ یہ رہا کہ ایرانی زر مبادلہ کے جو ذخائر 96 ارب ڈالر تھے اب محض چار ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں